خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 819
خطبات ناصر جلد دہم ۸۱۹ خطبہ نکاح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء کسی اور چیز پر بھروسہ نہ رکھو۔انسانوں کے لئے نمونہ بنو۔جماعت کے ہر فرد کے لئے ایک نمونہ بنو۔پھر خدا سے وہ سب کچھ پا لوجس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی توفیق عطا کرے۔عزیزہ بچی مکرمه شوکت جہاں صاحبہ بنت مکرم محترم مرزا طاہر احمد صاحب ربوہ کا نکاح دس ہزار روپے مہر پر عزیزم مکرم مرزا اسفیر احمد صاحب ابن مکرم محترم مرزا منیر احمد صاحب ساکن جہلم سے دس ہزار روپے مہر پر قرار پایا ہے۔عزیزہ بچی مکرمه امۃ الناصر صاحبہ بنت مکرم محترم نواب مسعود احمد خاں صاحب ربوہ کا نکاح میں ہزار روپے مہر پر عزیزم مکرم ظہیر احمد خاں صاحب ابن مکرم محترم نصیر احمد خاں صاحب ساکن ربوہ سے قرار پایا ہے۔سمیت ہاتھ اٹھا کر دعا کرائی۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )