خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 818
خطبات ناصر جلد دہم ΔΙΑ خطبہ نکاح ۳۰/دسمبر ۱۹۷۹ء اور اللہ کا نام ہر جگہ کندہ ہو گیا پھر انجینئر نے آکے کہا اب آپ کے رہنے کا بن گیا۔پھر انہوں نے رہائش اختیار کی۔تو جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا اور توکل کرتا اور خدا کے سوا کسی اور کو کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں۔لاشے محض اور اپنے آپ کو بھی ایک مرے ہوئے مچھر کی طرح سمجھتا ہے کیونکہ جو چیز فی نفسم اس کے اپنی وجہ سے نہیں اس کو ملی بلکہ خدا کے فضل اور رحمت سے ملی ہے اس کے اوپر اس کو کیا فخر۔جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ ہر ایسے موقع کے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہا کرتے تھے خدا نے یہ مجھے دیا۔خدا نے یہ مجھے دیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا و کس انسان کو دیا۔کس ماں نے وہ بچہ جنا ہے جس نے وہ پایا جو محمد نے اپنے خدا سے پایا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔لیکن کہتے تھے لا فَخْر - ہر بات کے بعد لَا فَخْرَ- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو جسم کا ذرہ ذرہ۔رونگٹا رونگٹا اور روح کا ہر پہلو جو تھا اس سے یہی آواز نکل رہی تھی خدا کے حضور میرا تو کچھ نہیں سب تیرا ہے۔اونچی جولا فخر کہتے تھے یہ مجھے اور تمہیں سمجھانے کے لئے کہتے تھے۔سبق دینے کے لئے کہتے تھے کہ میری اتباع اس طرح کرو۔آج میں اپنے خاندان کے عزیزوں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل کے بچوں کے دونکاح پڑھانے لگا ہوں۔تین کا تو ہمارے ( چار بن گئے دو بہنیں اور دو ان کے میاں ) ان میں سے ایک باہر کے ہیں اور تین ( دو بچیاں اور ایک بچہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل سے۔ان کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی۔دُوری ہے زمانہ کے لحاظ سے کوئی شک نہیں۔نسل کے لحاظ سے بھی تیسری نسل آگئی۔مگر جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل کے لئے بھی دیئے ، جماعت کے لئے بھی دیئے بڑے وعدے۔لیکن بہت سے وعدے نسل کے لئے بھی دیئے۔اس میں کہیں یہ نہیں لکھا ہوا کہ تیسری نسل کے حق میں میرے یہ وعدے پورے نہیں ہوں گے۔تمہارے حق میں بھی ہیں وہ وعدے اور وہ پورے ہو سکتے ہیں بشرطیکہ تم وہ شرائط پوری کرو جوان وعدوں کا وارث بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رکھیں۔خدا کے بندے بنو۔خدا پر کامل تو گل رکھو،