خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 815 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 815

خطبات ناصر جلد دہم ۸۱۵ خطبہ نکاح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء میں سمجھا یا تسلی دی۔اس کے دل میں بشاشت پیدا کی۔پھر اس کے کہنے کے مطابق میرے منہ سے یہ نکلا کہ جتنے سو ( مجھے یاد آ گیا سات سو کے قریب اس وقت اس کی تنخواہ تھی کہ ) سو کی بجائے تمہیں ہزار ملے گا۔ابھی دو تین مہینے ہوئے اس کا مجھے خط آیا کہ میں وہ شخص ہوں جس پر ایک ظلم ہوا تھا۔میری نوکری جاتی رہی تھی۔بڑی پریشانی کی حالت میں میں ملا تھا اور آپ نے مجھے یہ کہا تھا۔مجھے تو یاد نہیں رہا تھا۔مجھے تو اتنے کام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کام کرتا جا پچھلی طرف نہ دیکھ آگے ہی آگے دیکھ۔بہر حال اس نے مجھے بتایا کہ آپ نے کہا تھا کہ سو کے مقابلے میں ہزار دے دے گا۔جتنے سینکڑے تجھے مل رہے ہیں اتنے ہزار ملنے لگ جائیں گے اور آج اس لئے میں خط لکھ رہا ہوں خاص طور پر کہ اس مہینے کی تنخواہ مجھے سو کے مقابلے میں ہزا ر ہی ملی ہے۔اللہ دیتا ہے اور ہماری طرح تو نہیں نا کہ جس کے خزانے محمد ود ہوں۔کبھی بہت ہی محدود۔کبھی اس سے بھی زیادہ محدود کبھی پائی ہوتی ہے جیب میں ، دھیلا بھی نہیں ہوتا بعض دفعہ پائی بھی نہیں ہوتی اور کبھی بڑے خزانے ہوتے ہیں۔کسری نے ساری دنیا کی دولت جو تھی وہ سمیٹ لی تھی اور یورپ میں جس وقت مسلمان ان کی فلاح اور بہبود کے لئے داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے او پر بڑے انعام کئے۔اتنے ہیرے اور جواہرات ان کے پاس اکٹھے ہو گئے کہ ان کو سمجھ نہ آئے ان سے کیا کریں۔خدا تعالیٰ نے پیار سے دنیا کے قیمتی سے قیمتی ہیرے اور جواہرات ان کے قدموں میں لا کے ڈال دیئے۔جس طارق نے سپین کے ساحل پر پہنچ کے اپنی کشتیاں خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے جلا دی تھیں اس طارق کے ساتھیوں کو وہی وہاں جو پھر ایک اصلاحی مہم اسلام کے نام پر جاری ہوئی خدا تعالیٰ نے اتنادیا کہ جو گنجائش ان کشتیوں میں ہوگی۔سونا اور چاندی اور جواہرات کی اس سے بھی کہیں زیادہ ان کو دے دیا۔سوال تھا خرچ کہاں کریں؟ انہوں نے کہا پابندی ہوگئی۔خدا تعالیٰ کے لئے کیا تھا۔خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف تو نہیں اپنے آپ کو سونے سے ڈھانک سکتے تھے۔مرد کے لئے سونا پہننا منع ہے۔۱۹۷۰ء میں میں نے افریقہ کا دورہ کیا۔تو بعض پیرا ماؤنٹ چیف ملے۔ان کے کلائی سے لے کے باز و تک موٹے موٹے سونے کے کڑے پہنے ہوئے۔اسی طرح لاتوں میں انہوں نے