خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 816 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 816

خطبات ناصر جلد دہم ΔΙ خطبہ نکاح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء بڑے بڑے کڑے پہنے ہوئے۔مسلمان نے وہاں اس طرح تو نہیں کرنا تھا۔انہوں نے کہا خدا کے گھر کو خدا کے سونے اور چاندی ( چاندی اتنی زیادہ استعمال نہیں کی کم قیمتی دھات ہے ) ہیرے اور جواہرات سے اس طرح لپائی کر دو جس طرح اب گارے سے دیواروں کی لپائی کرتے ہیں۔پھر جب وہ نسلیں پیدا ہوئیں جنہوں نے خدا کو یاد نہیں رکھا اور وہ خدا پر توکل اور بھروسہ کرنا بھول گئے اور ابتلا کا زمانہ آیا اور انہیں شکست ہوئی بجائے فتح کے تو عیسائیوں نے جو وہاں لوٹا وہ بہت کچھ تو گیا اس وقت کے عیسائی بادشاہوں کے خزانوں میں۔کچھ حصہ ملا پادریوں کو بھی ، چرچ کو بھی اور وہ بھی پھر پھیل گیا۔اسی دورے میں اتفاقاً ہمارا منصوبہ کوئی نہیں تھا ہم قرطبہ میں اس وقت پہنچے جب قرطبہ کی مسجد سے مسلمانوں سے اس جگہ کے یا اس مسجد سے جو لوٹا ہوا سونا اور ہیرے اور جواہرات تھے، بہت بڑے تابوت کے اندر رکھا ہوا ہے انہوں نے مسجد کے اندر ہی ایک چھوٹا سا گر جا بنا کے وہاں سے باہر نکال رہے تھے۔ہر سال ان کا میلہ ہوتا ہے۔تو ایک پروفیسر دیکھ کے آگئے۔کہتے آپ کو زبان نہیں آتی میں سارا آپ کو بتا تا ہوں میں نے کہا آپ کا بہت شکریہ۔مجھے کہنے لگا کہ اس تابوت میں ایک ٹن ہیرے اور جواہرات مسلمانوں سے لوٹے ہوئے ہیں موجود۔وہ ایک ٹن ہیرے اور جواہرات مسجد کی دیواروں سے ہی کھرچے تھے انہوں نے۔میں اپنی سوچ میں پڑ گیا اور اس سوچ کا خلاصہ یہ تھا میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔تلوار پکڑ کر مسجد کے اندر داخل ہوئے تھے اور ہیرے اور جواہرات سے لدے ہوئے مسجد سے باہر نکل آئے۔تو بڑا د یا مسلمانوں کو۔ساری دنیا کی دولتیں ان کے قدموں میں ڈالیں لیکن ان کو یہ سبق یاد تھا کہ ہم نے خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ہے اسی پر توکل کرنا ہے، غیر اللہ کی طرف توجہ نہیں کرنی ، منہ نہیں پھیر نا۔ایک ذرہ ، ایک رتی برابر بھی ہمارے دلوں میں شرک نہیں آئے گا۔سپین ہی ایک مثال ہے پہلے بھی کئی دفعہ میں نے دی ہے۔ہمارے بہت بڑے مقبول اور امیر بادشاہ وہاں گزرے ہیں عبد الرحمان۔( دو تین بادشاہ ہیں عبد الرحمان کے نام سے ) جنہوں نے غرناطہ میں الحمراء بنایا۔وہ بڑا ہی خوبصورت اور باغ۔خدا تعالیٰ نے ان ساری چیزں کو