خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 814
۸۱۴ خطبہ نکاح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء خطبات ناصر جلد دہم سے کسی کی خشیت دل میں نہ ہو۔وَاخْشَونی صرف اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں پیدا ہو۔تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ ہر چیز اللہ سے مانگی جائے اور اسی سے لی جائے۔پس تقویٰ کے معنی یہ ہوئے مولا بس۔یا ہم پنجابی میں کہتے ہیں میرا اللہ والی۔تقویٰ پر زور اس لئے دیا گیا کہ انسان اپنی زندگی کا مقصد تقوی اللہ کے سوا حاصل کر ہی نہیں سکتا اور اگر انسان تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرے۔اپنی طرف سے خلوص نیت کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں انسان پر ڈالی ہیں۔انہیں پوری کرنے کی پوری طرح کوشش کرے۔پوری ہمت کے ساتھ ، عزم کے ساتھ اور سعی کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی قبولیت کو حاصل کرنے والا ہو تو اسے سب کچھ مل جاتا ہے۔اسلامی تعلیم انسان سے سب کچھ لے لیتی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔مگر قرآن کریم نے یہ کہا کہ جو میں نے لیا وہ میں نے ہی تمہیں دیا تھا۔یہ درست ہے اپنی جگہ۔قرآن کریم نے فرمایا کہ پھر بھی جب میں لیتا ہوں تو کتنا بڑھا چڑھا کر واپس کرتا ہوں۔مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (البقرة : ۲۴۶) تو عجیب شان ہے ہمارے رب کریم کی سب کچھ اسی کا تھا سب کچھ اسی کا ہے۔اس نے دیا بندہ نے لیا۔پھر اس نے کہا میری عطا میں سے میری راہ میں خرچ کرو۔بندہ نے خرچ کیا۔پھر خدا نے اپنی چیز جو واپس لی تھی اس کے متعلق کہا یہ میں نے قرض لیا ہے اور قرض واپس نہیں کروں گا۔کئی گنا بڑھا کر اسے میں واپس کروں گا۔دنیا میں فلسفہ اپنی جگہ پر ہے اور حقیقت زندگی اپنی جگہ۔یہ محض فلسفہ نہیں کہ خدا جب لیتا ہے تو اسے قرض کہتا اور بڑھا چڑھا کر واپس کرتا ہے۔ہر روز کی ہماری زندگی کا یہ مشاہدہ ہے۔خدا تعالیٰ جب لیتا ہے اپنی راہ میں قربانی تو اتنا بڑھا چڑھا کے دیتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک شخص پر ظلم ہوا۔ہمارا احمدی نوجوان تھا۔چند سو روپے اس کی تنخواہ تھی۔اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔بڑی پریشان حالت میں وہ میرے پاس آیا۔میں نے اسے اسی تعلیم کی روشنی