خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 813
خطبات ناصر جلد دہم ۸۱۳ خطبہ نکاح ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے اور اسی سے لی جائے خطبہ نکاح فرموده ۳۰ / دسمبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه مورخہ ۳۰ دسمبر ۱۹۷۹ء بعد نماز ظہر مسجد مبارک ربوہ میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے دونکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام میں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ پر بہت زور دیا گیا ہے۔اپنی زبان میں ہم مختلف الفاظ میں مختلف پہلوؤں سے اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ایک ترجمہ اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں بھی فرمایا تھا۔غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی“ یہ تقویٰ ہی کا ایک ترجمہ ہے۔تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھا جائے اور اسے ہی کافی سمجھا جائے۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ۔تقویٰ ہی ہمیں سکھاتا ہے اور تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا جو غیر ہے اسے لاھی محض سمجھا جائے۔خود اپنے نفس کو بھی کچھ نہ سمجھا جائے اور جو غیر اللہ ہیں ان کا کبھی بھی کوئی اثر قبول نہ کیا جائے۔فَلَا تَخْشَوهُمُ (البقرۃ: ۱۵۱) غیر اللہ میں