خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 58
خطبات ناصر جلد دہم ۵۸ خطبہ عیدالفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں آئے تھے کہ تم ہو کیا چیز ؟ لیکن ہم ہیں کچھ ایسی ہی چیز جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر قربان ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ نے انسان کی یہ شان بتائی ہے کہ جب خدائی حکم ملتا ہے تو وہ جھک کر پتھر کو بھی پیار کر دیتا ہے کیونکہ اس کے دل میں نہ ہیرے کی قدر ہے نہ حجر اسود کی قدر ہے وہ تو رب کریم پر شار ہے اس کے دل میں سائنس میں ترقی یافتہ یورپین ممالک کے ساتھ بھی اتنا ہی پیار ہے جتنا کہ افریقہ میں بسنے والوں کے ساتھ۔اس کے لئے حجر اسود اور ہیرا برا بر ہے مگر خدا کی رضا کے لئے حجر اسود کا بوسہ لیتا اور ایک ہیرے کو اپنی ظاہری زینت کا سامان بھی نہیں سمجھتا۔پس حج کرنے والے ایک جیسی لذتیں بیان کریں گے لیکن رمضان کی روحانی لذات میں ہر آدمی کا بیان مختلف ہوتا ہے۔غرض ایک وہ مہمان نوازی ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے اخلاص میں اور تمہارے اخلاص کے نتیجہ میں تمہاری عبادات میں تمہاری قربانیوں میں جب تنوع ہوگا تو میری ضیافت میں بھی ایک تنوع ہوگا تمہاری قربانیوں میں تو وہ تنوع نہیں ہوسکتا جو میری ضیافت میں تنوع ہوتا ہے۔پس ہماری عید وہ ہے جو استقامت اور استقلال سے نیکی پر قائم ہونے کے نتیجہ میں غفور اور رحیم خدا کی طرف سے پیدا کی جاتی ہے۔یہ نہیں کہ جو چیز بار بار آ گئی اسے عید کہہ دیا جائے بلکہ یہ ایک نُزُل ہے ایک ضیافت ہے لوگوں کے گھروں میں دستر خوان آپ ہی چھلانگیں لگا کر نہیں بچھا کرتے جب تک خود صاحب خانہ وہ دستر خوان نہ بچھائے اس کے اوپر پلیٹیں نہ لگائے اور اس کے اوپر سالن کی ڈشیں نہ لگائے اور پھر اس پر مہمانوں کو بٹھا کر ( فرش پر یا کرسی پر یا صوفے پر یا جیسی صورت ہو یہ صاحب خانہ کا کام ہے ) کہے کہ کھانا کھالو۔ہماری حقیقی عید بھی ایک صاحب خانہ کی طرف سے میسر آتی ہے اور یہ ہستی ایک ہی ہستی ہے اس کے علاوہ کوئی ہستی نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات۔وَاللهُ اکبر۔وہ ہمارے لئے نُول یعنی مہمانی اور ضیافت کا سامان پیدا کرتا ہے۔دنیا کہتی ہے تمہارے اندر یہ نقص ہے وہ نقص ہے ہم کہتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں کہ ہمارے اندر یہ بھی نقص ہے اور وہ بھی نقص ہے لیکن ہمارا خدا اغفور ہے۔دنیا یہ کہتی ہے کہ تمہاری زندگی محدود ہے اور اس میں تم نے معدودے چند نیکی کے کام کئے۔ہم کہتے