خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 59

خطبات ناصر جلد دہم ۵۹ خطبہ عیدالفطر ۸ / نومبر ۱۹۷۲ء ہیں کہ ہمارا رب جو ہے وہ رحیم بھی ہے اور رحمن بھی ہے۔جس وقت اس کی رحیمیت اور رحمانیت اکٹھی ہو جاتی ہیں اس وقت وہ ہر محدود کی حد بندیاں پھلانگ کر انسان پر آسمانی نعمتوں کو آگے سے آگے لے جاتی ہیں۔پھر کوئی حد بندی نہیں رہتی ، پھر انسان کے عمل کا کہاں سوال رہا ؟ نجات تو خدا کے فضل پر منحصر ہے اور خدا کے فضل پر کون حد بندی لگا سکتا ہے؟ پس ہماری عید ایک عجیب عید ہے ہماری عید ایک حسین عید ہے۔ہماری عید پہلوں کی عید کے مقابلہ میں ایک مختلف عید ہے۔ہماری عید ہم سے مسلسل نیکیاں کرتے چلے جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ہماری عید سال میں صرف دو بار نہیں آتی۔ہماری عید سال میں دو بار بھی آتی ہے۔ہماری عید ہر ہفتہ میں ایک بار آتی ہے ایک بڑی ضیافت کا سامان ہر روز کیا جاتا ہے جن اوقات کو دُنیا اپنے اندھا پن کے نتیجہ میں ظلمتوں کا وقت بتاتی ہے ان میں اللہ تعالیٰ ہمارے لئے روشنی کے سامان پیدا کرتا اور ضیافت کے سامان پیدا کرتا ہے۔پھر اس نے ہمارے اوپر یہ فضل بھی کیا کہ اس نے ہماری ہر نماز کو عبادت بھی بنا دیا اور ضیافت بھی بنادیا۔خدا ہم پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔پہلوں کی استعداد میں خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں تھیں اس لئے ان کو یہ نعمتیں نہیں ملیں یہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ اس قدر نعمتوں کو سنبھال لینے اور اٹھا لینے کی اُن کو طاقتیں دے دیں کہ جو اس سے قبل لوگوں کے تصور اور تخیل سے بھی باہر تھیں۔پس تم خدا کی ان نعمتوں اور اس کے فضلوں پر خدا کی تسبیح اور اس کی حمد کرو 66 اللهُ أَكْبَرُ - اَلْحَمْدُ لِلهِ " خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اجتماعی دعا سے پہلے میں پھر آپ سب کو عید مبارک دیتا ہوں۔خدا کرے کہ یہی عید نہیں بلکہ وہ سب عید میں ہم سب کو میسر آئیں جن کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۳۰ مئی ۱۹۷۳ء صفحه ۲ تا ۵)