خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 56

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء ملتی ہے مومن کی قربانیوں میں ایک تسلسل ہوتا ہے وہ یکے بعد دیگرے قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے۔ماہ رمضان اس کی مثال ہے۔تیس دن میں بہت ساری قربانیاں اللہ تعالیٰ نے اکٹھی کر دیں اُن میں سے بعض کی طرف میں نے اسی رمضان میں ایک خطبہ میں اشارہ کیا تھا اور بھی بہت ساری قربانیاں ہیں اور دن اور رات ہر دو اوقات میں خدا کے حضور اس کا عاجز بندہ استقامت اور استقلال کے ساتھ قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے پھر خدا کے فرشتے آسمان سے اس پر نازل ہوتے اور بشارتوں کا اس کے لئے سامان پیدا کر دیتے ہیں۔آخر میں لیلتہ القدر آ جاتی ہے ( جو بھی صحیح معنی ہم کرتے ہیں اس کے لحاظ سے ) وہ قبولیت دعا کا زمانہ ہے لیلتہ القدر کا زمانہ ہے جس میں تقدیریں بدل جاتی ہیں۔انسانیت کی بھلائی کے لئے انتظام کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد عید آ جاتی ہے یہ عید ہر ہفتہ میں جمعہ کے دن بھی آتی ہے کیونکہ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سال کے بعد خدا تعالیٰ ہماری ضیافت اور مہمانداری کرتا ہے اس طرح تو سال کے باقی دنوں میں ہم روحانی طور پر بھوکے رہ جاتے اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا نہیں، میں ہر ہفتہ تمہاری دعوت کیا کروں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جمعہ مسلمانوں کے لئے عید یعنی نُزُرا من غَفُورٍ رَّحِيمٍ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول قرآن کریم کی تفسیر ہے۔عید کے متعلق آپ کے سب اقوال نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ یا اس سے ملتے جلتے مفہوم کی آیات جو مختلف مضامین کے سیاق و سباق کے لحاظ سے قرآن کریم کی مختلف جگہوں پر پائی جاتی ہیں انہی کی تفاسیر ہیں پس رمضان کے بعد عید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا ایک اور ضیافت ہے جو خدائے غفور و رحیم کی طرف سے ہر جمعہ کو میسر آیا کرے گی۔پھر ہر روز کی ضیافت ہے اور وہ رات کے نوافل سے حاصل ہوتی ہے۔ہر روز کی قربانی کے بعد قبولیت دعا کا ایک وقت عطا کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیار کا جلوہ دیکھنے کے لئے اور خدا کے بندہ کو مقام محمود تک پہنچانے کے لئے ایک ساعت مقرر ہوگئی ہے پھر خود ( یہ بڑی شان ہے اسلام کی ) ہر نماز ایک طرف عبادت اور اللہ کے حضور کچھ پیش کرنے کی شکل بھی ہے اور دوسری طرف الصَّلوةُ الدُّعَاءُ کی رُو سے ہر نماز ہمارے لئے عید بن جاتی ہے گو یا پانچ وقت کا روحانی کھانا ہمیں میسر آ گیا۔پانچ وقت کے علاوہ