خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 760 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 760

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۱۸ رمئی ۱۹۷۷ء خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس ور لی زندگی کے ساتھ غم اور خوشی ہر دو لگے ہوئے ہیں۔پریشانیاں بھی ہیں اور بشاشتیں بھی ہیں۔ابھی ہم نے ایک جنازہ پڑھا۔مکرم عبد العزیز صاحب ڈار جو کہ کشمیر کے رہنے والے تھے ( ربوہ والے سارے ان کو جانتے ہوں گے) آج صبح ساڑھے تین بجے وفات پاگئے یہ ان کا جنازہ تھا۔ان کے عزیزوں کا انتظار کیا گیا چنانچہ راولپنڈی سے بھی ان کے عزیز آگئے ہیں۔اس کے علاوہ آج ہمیں بڑی پریشانی ہے کیونکہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی علالت بڑی تشویشناک صورت اختیار کر گئی ہے لیکن جو مذہب ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عطا کیا گیا ہے وہ بڑا عظیم مذہب ہے۔غم میں اور پریشانیوں میں بھی ایسے سامان پیدا کئے گئے ہیں کہ ایک مومن اطمینان اور سکون حاصل کرتا ہے یا کم از کم حاصل کر سکتا ہے اگر چاہے تو۔کیونکہ اسلام میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ الا بذکر الله تَطْمَبِنُ الْقُلُوبُ (الرعد: ۲۹) ذکر الہی سے سکون حاصل ہوتا ہے ، اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے، پریشانیوں کا جو نشتر ہے اس کا احساس نہیں رہتا اور انسان کو اپنا مقام معلوم ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی شان اور اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے سامنے انسان کا سر جھکتا ہے اور ہر غیر کو وہ بھول جاتا ہے۔اس دنیا میں دنیوی لحاظ سے بھی خوشی کے بہت سے سامان ہیں۔ان میں سے ایک وہ سامان ہے جو نکاح کی شکل میں ہماری زندگیوں میں آتا ہے کہ ہمارے عزیز ، ہمارے دوست ، ہمارے رشتہ دار، ہمارے بچے رشتہ ازدواج میں بندھتے ہیں اور یہ بڑی خوشی کا موقع ہے اور یہ صرف خوشی کا ایک موقع نہیں بلکہ خوشی کے بہت سے مواقع کو جنم دیتا ہے بچوں کو جنم دے کر۔پس پریشانیاں بھی اپنی جگہ ہیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ نے سکون اور اطمینان کے سامان بھی پیدا کر دیئے ہیں اور خوشیاں بھی اپنی جگہ ہیں اور ہر دو مواقع پر سوائے اس چیز کے کہ ہم اپنے رب کریم کی طرف جھکیں اور اس کے آستانہ پر اپنے سر کو رکھ دیں حقیقی خوشی اور مسرت ہمیں حاصل نہیں ہوسکتی۔دعا ہے کہ نکاحوں کے جو پانچ اعلان اس وقت کئے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کے خاندانوں کے لئے بھی حقیقی خوشی اور راحت کے سامان پیدا کرے اور اس کے نتیجہ میں جس طرح