خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 754 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 754

خطبات ناصر جلد دہم ۷۵۴ خطبہ نکاح ۲۱ جنوری ۱۹۷۷ء عام طور پر رشتوں میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آپس کے تعلقات قول سدید پر قائم نہیں ہوتے۔میرے پاس ہر سال بیسیوں خط آجاتے ہیں جن میں دوست یہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح فلاں فلاں خاندان میں رشتہ قائم کیا لیکن دوسرے فریق نے اپنی لڑکی یا اپنے لڑکے جو بھی معاملہ ہو اس کے متعلق انہیں سیدھے اور صحیح طور پر واقعات نہیں بتائے۔وہ ان سے ہیر پھیر سے باتیں کرتے رہے اور پھر بعد میں بڑی خرابی پیدا ہوگئی چنانچہ بعض تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے تو بعض دفعہ پریشانیوں کے بعد پھر استوار بھی ہو جاتے ہیں لیکن ایک فتنہ عارضی ہو یا مستقل پیدا ہو جاتا ہے۔صرف اس لئے کہ قول سدید کو اختیار نہیں کیا گیا۔اس وقت میں دونکاحوں کا اعلان کروں گا۔ان دونکاحوں کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تیسری نسل سے ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد۔پھر ان کی اولا د اور پھر ان کی اولا د جو ہے اس کے آپس میں رشتے قائم ہورہے ہیں۔ایک رشتہ یعنی دولہا اور دولہن جن کے نکاح کا ابھی اعلان ہوگا اور وہ میاں بیوی بن جائیں گے، وہ دونوں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی بھی توفیق عطا کرے جو انسانیت نے ان پر ڈالی ہیں اور خدا تعالیٰ کے پیار کے اس تعلق کے نتیجہ میں کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں ان کو پیدا کیا ہمارا تو کوئی استحقاق نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ یہ سلوک کرتا۔خدا تعالیٰ کی یہ عنایت ہے اور اس کے نتیجہ میں بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو یہ ذمہ داری نباہنے کی بھی توفیق عطا کرے۔یہ پہلا رشتہ جس کا میں ذکر کر رہا ہوں حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے عزیزم مسرور احمد صاحب کا ہے جو عزیزم مکرم مرزا منصور احمد صاحب اور میری ہمشیرہ کے بیٹے ہیں اور جہاں ان کا رشتہ قرار پایا ہے وہ میری دوسری ہمشیرہ کی بڑی بیٹی ہیں یعنی میری وہ ہمشیرہ جنہیں سید محمود اللہ شاہ صاحب اپنی بہو بنا کر لے گئے تھے۔دوسرا رشتہ ایسا ہے جس میں بچی ہمارے خاندان کی ہے اور وہ خاندان سے باہر بیاہی