خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 753 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 753

خطبات ناصر جلد دہم ۷۵۳ خطبہ نکاح ۲۱ جنوری ۱۹۷۷ء رشتوں میں پیدا ہونے والی اکثر خرابیاں قول سدید کے نتیجہ میں دور ہو جاتی ہیں خطبہ نکاح فرموده ۲۱ جنوری ۱۹۷۷ء بمقام مسجد مبارک ربوہ حضور انور نے بعد نماز مغرب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسان انسان میں تعلق پیدا ہوتا ہے اور اس تعلق کی بنیاد ” بیان پر ہے اگر اللہ تعالیٰ انسان کو بیان نہ سکھاتا تو انسان انسان کا جو تعلق خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے اور جو بنیادی طور پر دوسری مخلوقات کے ہر تعلق سے مختلف ہے، وہ تعلق بھی قائم نہ ہوتا۔پس ہمارا معاشرہ درست ہو تب بھی اس کی بنیاد ” بیان پر ہے اور اگر وہ خراب ہو تب بھی اس کی بنیاد بیان پر ہے۔اسی لئے نکاح کے ذریعہ جو تعلق اور رشتہ قائم ہوتا ہے اور جو فی الحقیقت بڑا نازک رشتہ ہے، اس میں بھی ہمیں توجہ دلائی گئی ہے قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب: ۷۱) کہ تمہارا جو تعلق ہے وہ بیان پر ہے اس لئے تمہیں یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ قول مستقیم اختیار کرو۔سدید کے ایک معنے مستقیم بات کے بھی ہیں یعنی وہ سیدھی بات جو خدا تعالیٰ کی رضا تک پہنچانے والی ہو۔اس قول سدید کے نتیجہ میں عمل صالح پیدا ہوتا ہے یعنی وہ عمل جو صراط مستقیم پر گامزن ہو۔