خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 747
خطبات ناصر جلد دہم ۷۴۷ خطبہ نکاح ۱۵ جولائی ۱۹۷۶ء کی جماعت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو علم سیکھنے کے لحاظ سے پڑھائی کے لحاظ سے ایک اور رنگ میں زندگی وقف کرتا، جامعہ احمدیہ سے تعلیم حاصل کرتا ، اپنے علم کو بڑھا تا اور پھر فارغ التحصیل ہونے کے بعد معمولی سے گزاروں پر ساری عمر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انسان کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش میں گزار دیتا ہے۔اس فہرست میں ہمارا یہ عزیز بچہ بھی ہے اور بڑا سمجھدار، ذہین اور مخلص ہے لیکن ایک بنیادی چیز جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کبھی تکبر اور غرور نہیں کرنا اور اپنے پر بھروسہ نہیں کرنا۔اپنے رب پر بھروسہ کرنا ہے اس لئے ہمیں یہ دعا سکھائی اور کہا خاتمہ بالخیر کی دعا کرو۔خاتمہ بالخیر کی دعا صرف کافر کے لئے یا کمزور ایمان والے کے لئے یا منافق کے لئے ہی نہیں کی جاتی کہ خدا تعالیٰ اصلاح کرے بلکہ جو سب سے زیادہ بلند درجہ کسی وقت کو ئی شخص اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں رکھتا ہے وہ زیادہ تعہد کے ساتھ اور زیادہ درد کے ساتھ خدا کے حضور یہ دعا کرتا ہے کہ اے خدا! جہاں تو نے اتنا دیا ہے وہاں یہ انتظام بھی کر کہ میں مرتے دم تک تیرے دامن سے چمٹار ہوں اور اسے کبھی نہ چھوڑوں اور شیطان کا وسوسہ میرے دل میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے۔اگر چہ ہماری یہ دعا ہے کہ سب کا خاتمہ بالخیر ہولیکن چونکہ شاہدین پر خاص طور پر دنیا کی نگاہیں ہیں اور اگران میں ذراسی بھی کمزوری پیدا ہو تو جماعت کے لئے بڑی شرمندگی کا باعث ہے اس لئے ہم سب کو ان کے لئے بھی یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی خاتمہ بالخیر کرے اور جس طرح ان کے والد کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ اپنے ایک بچے کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ وہ دین کی طرف راغب ہو اور دینی علم سیکھ کر دینی جہاد کے میدان میں نمایاں ہوکر سامنے آئے اسی طرح اس بچہ کو وقف پر استقامت بخشے۔ان کے نکاح کا آج اعلان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اولا د بھی دے اور ان کو یہ توفیق بھی دے کہ اگر ان کے والد نے ایک بچہ وقف کیا تو اگلی نسل کو آگے بڑھنا چاہیے۔ہماری ضرورت بھی بڑھ رہی ہے اس لئے ان کو خدا توفیق دے کہ یہ ایک سے زائد بچے ان ہی کی طرح وقف کرنے والے پیدا کرنے کی دعا اور تدبیر کے ساتھ کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو بھی کامیاب کرے اور ہماری دعاؤں کو بھی سنے اور جو مقام عزت و احترام کا اللہ تعالیٰ