خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 746 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 746

خطبات ناصر جلد دہم ۷۴۶ خطبہ نکاح ۱۵ جولائی ۱۹۷۶ء کے لئے وقف کی اور سمجھ کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اور دیانتداری کے ساتھ اور ایثار اور قربانی کے ساتھ ایک لمبا عرصہ خدمت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی توفیق اللہ تعالیٰ سے حاصل کی۔میرا اشاره مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم کی طرف ہے اور اب ان کا یہ چھوٹا بیٹا جو زیادہ لاڈلا تھا اور جس کی طرف انہوں نے زیادہ توجہ دی اور جسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے ذہن بھی بڑا اچھا دیا ہے میٹرک میں بڑے اچھے نمبر لئے اور اس وقت پتہ نہیں کس نے ان کے دماغ میں یہ خیال ڈالا کہ بی۔اے کر کے یا دوسری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی وقف ہوسکتا ہے۔ہمارے بہت سے بچے ایسا کرتے ہیں۔چنانچہ ان کے سامنے بھی دو راستے تھے۔اس لائن کو اختیار کیا جائے یا براہ راست جامعہ میں داخلہ لیا جائے۔میرے پاس مشورہ کے لئے آئے۔میں نے کہا جو کھد اور نالائق بچے ہیں صرف ان کو تو ہم نے جامعہ میں نہیں لینا جو چوٹی کے ہوشیار طالب علم ہیں زیادہ وہ آنے چاہئیں۔بعض دوسرے بھی آجاتے ہیں ان کو ہم انکار نہیں کر سکتے لیکن جو چوٹی کے دماغ خدا ہمیں دیتا ہے ان کا ایک حصہ جامعہ میں بھی آنا چاہیے اور دینی تعلیم حاصل کر کے خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے جو ایک عظیم جہاد اور مجاہدہ اور جدو جہد شروع ہے اس میں ان کو حصہ لینا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے میرے اس مشورہ پر عمل کر کے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور اب وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شاہد بن گئے ہیں اور یہ گویا تیسری نسل ہوگئی جو اس طور پر سلسلہ کے لئے وقف ہے۔ویسے تو ہر احمدی کسی نہ کسی رنگ میں واقف بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر احمدی کو کہا ہے کہ وہ ایک واقف کی زندگی گزارے اور آپ نے یہ بڑے زور سے کہا ہے اور بڑے پیار سے کہا ہے اور بڑے درد کے ساتھ کہا ہے۔آپ نے کہا جب میں نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کی ہوئی ہے تو جولوگ میرے ساتھ پیار رکھنے والے ہیں ان کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کریں لیکن اس وقف سے مراد جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے والا وقف نہیں۔اس وقت تو جامعہ احمدیہ ہی نہیں تھا۔پس ہر احمدی مرد اور عورت ، لڑکے اور لڑکی کا فرض ہے کہ خدا کی راہ میں اپنی زندگی وقف سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے دن خدا کی رضا کے حصول کی کوشش میں گزارے لیکن ان واقفین