خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 705 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 705

خطبات ناصر جلد دہم ۷۰۵ خطبہ نکاح ۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ہیں وہ جب تو جہ نہیں کرتے تو مجھے ذہنی طور پر بہت کوفت اٹھانی پڑتی ہے۔غرض اب اس علاقے سے یہ مطالبہ ہو گیا ہے کہ ہمیں یوگوسلاو زبان میں قرآن عظیم کا ترجمہ تفسیری نوٹوں کے ساتھ ، ہمیں اسلام کی حسین تعلیم کے متعلق کتب اور رسائل دو ہمیں یہ دو ہمیں وہ دو۔ان کا مطالبہ درست ہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان کو یہ چیز دیں جس طرح کہ ہمارا یعنی ہر باپ اور ماں کا یہ فرض ہے کہ جب اس کا لڑکا یا لڑکی جوان ہوتی ہے تو زبان حال سے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جوانی کے تقاضے میرے ساتھ لگائے ہیں ان کو پورا کرنے کا موقع مہیا کریں۔احمدیت کے اندر جو بچے پیدا ہوتے اور بڑھتے ہیں میں ان کی بات کر رہا ہوں وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے اوپر یہ تقاضا ہے کہ تربیت یافتہ احمدی پیدا کرو اور گھروں میں نیکی کا ماحول پیدا کرو ہمیں اس کا موقع عطا کریں۔بعض نا سمجھ اور ناتجربہ کار ذہن بچیوں کو اس عمر تک پڑھاتے رہتے ہیں کہ اس کے بعد ان کے لئے رشتہ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ ایک صاحب آئے کہ میری بچی بہت پڑھتی رہی ہے۔اس نے ایم اے کیا ہے یہ کیا ہے وہ کیا ہے اب اس کی عمر ۳۲،۳۰ سال ہو گئی ہے۔آپ اس کے لئے کوئی رشتہ تلاش کریں۔میں نے کہا کوشش تو کروں گا مگر تم یہ سوچ لو کہ ۳۴، ۳۵ سال کا کنوارا مرد ڈھونڈ نا آسان کام نہیں ہے۔ہمیں پچیس سال کی عمر میں شادیاں ہو جاتی ہیں۔پس جو شادی کی عمر ہے اور جس عمر میں اسلام نے شادی کے لئے کہا ہے۔جب لڑکا اور لڑکی اس عمر کو یعنی بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کی شادی ہونی چاہیے اور جو روشن اور فراست والے ذہن ہیں اور جو علم رکھتے ہیں انہیں اس ملاپ کے لئے سامان پیدا کرنے چاہئیں جس ملاپ کے نتیجہ میں ساری دنیا امت واحدہ بن جائے گی اور تمام انسان ایک خاندان ہو جائیں گے۔یہ جو دوسال میں صرف تین انعام ملے اور ان کا اعلان ہوا اس سے بڑا دکھ ہوتا ہے پہلے سال میں غالباً چار پانچ انعام ملے تھے اور پھر یہ کم ہوتے چلے گئے کیا خدا نے ہم سے ہماری عقلیں چھین لیں ؟ ایسا تو نہیں ہوا۔ہم ہی سست ہو گئے ہیں۔پہلے سال چار انعام ملے تھے پھر تین پھر زیر و، پھر دو، پھر ایک اس طرح یہ چل رہا ہے یہ تو بڑی افسوس ناک بات ہے۔