خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 706 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 706

خطبات ناصر جلد دہم 2۔Y خطبہ نکاح ۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرنا ہے تو اس وقت ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مختلف زبانیں سیکھیں اور مختلف زبانوں میں اتنی مہارت حاصل کریں کہ ان میں کتابیں لکھ سکیں اور گفتگو کرسکیں۔اور پھر ہم خدا تعالیٰ سے یہ توفیق چاہیں اور اس رنگ میں دعا کریں کہ ہماری دعائیں قبول ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رنگ میں کتابیں لکھنے کی توفیق عطا کرے کہ جس سے ان زبانوں کے بولنے والی اقوام کو سیری حاصل ہو اور ان کے سر فخر سے بلند ہوں کہ ہم ایک ایسے مذہب کی طرف منسوب ہونے والے ہیں کہ جو اپنی علمیت کے لحاظ سے اور اپنی صداقت کے لحاظ سے دنیا کے ہر علم اور ہر اس چیز پر جس کو دنیا صداقت سمجھتی ہے بھاری اور وزنی ہے نیز ہمارے بچوں کی شادیاں ایسے وقت میں ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق عطا کرے کہ ان سے ایک نئی نسل بھی ہو اور وہ اس رنگ میں پیدا ہو اور پرورش پائے اور بڑھے اور پھلے اور پھولے کہ جو اسلام کے باغ میں تر و تازگی پیدا کرنے والی ہو۔اس وقت جس نکاح کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ عزیزہ بچی طاہرہ مشتاق صاحبہ کا ہے جو مکرم محترم ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب ساکن لاہور کی صاحبزادی ہیں۔ان کا نکاح دس ہزار روپیه مهر پر عزیزم کیپٹن سید منصور و قار صاحب ابن مکرم محترم سید مسعود احمد شاہ صاحب بخاری لاہور سے قرار پایا ہے۔ایجاب و قبول کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو بہت بابر کت کرے اور اس سے ایسی نسل چلے جو اسلام کی خادم ہو اور خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ جماعت کے پڑھے لکھوں کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ دنیا کی ضرورت کے مطابق دنیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے متعلق لٹریچر پہنچا سکیں۔دوست دعا کریں۔اس کے بعد حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۸ / فروری ۱۹۷۶ ء صفحه ۳، ۴)