خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 689
خطبات ناصر جلد دہم ۶۸۹ خطبہ نکاح ۲۲ / دسمبر ۱۹۷۴ء ترقی تو پہلے بھی کر رہی تھی لیکن اس کی بین الاقوامی حیثیت بہت مضبوط ہوگئی ہے اس لئے دنیا نے یہ سوچا کہ بین الاقوامی کوشش سے جماعت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔چنانچہ جماعت کے خلاف گذشته سال بین الاقوامی طور پر کوششیں اور منصوبے تیار ہوئے اور یہ زمینی مخالفت جب بین الاقوامی سطح پر نمودار ہوئی تو وہ اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اپنی زندگی کے نہایت نازک دور میں داخل ہو گئی ہے۔ہماری اس جد و جہد جو محض اسلام کے غلبہ کے لئے ہے اس میں ہمارا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے اور نہ کوئی جماعتی فائدہ ہے۔غلبہ اسلام کے لئے جو علامات اور قرائن پیشگوئیوں سے ہمیں معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ تین سوسال کے اندر اندر غلبہ اسلام کی انتہائی کامیابیوں کے زمانہ میں جماعت داخل ہو جائے گی ہم کیا ہیں بس لاهی محض ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ہم تو کوئی چیز نہیں ہیں۔اصل اسلام ہے اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔احباب جماعت کو یاد ہوگا میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر کہا تھا کہ اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے اس کے استقبال کی تیاری کے لئے احباب قربانیاں دیں کیونکہ یہ زمانہ ساری دنیا میں یعنی یورپ میں بھی ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں بھی ، جزائر میں بھی، ایشیا میں بھی ، شرق اوسط ہو یا مشرق بعید ہو سب میں اسلام کو غالب کرنے کا زمانہ ہے۔گویا ۱۳ ، ۱۴ سال کے بعد جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی شروع ہونے والی ہے جس کے لئے میں نے کہا تھا کہ اس کے استقبال کے لئے احباب قربانیاں دیں مالی بھی اور دوسری بھی۔چنانچہ جماعت نے اس تحریک میں بھی حصہ لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی قربانیاں دیں۔یہ جماعت بڑی قابل رشک جماعت ہے یہاں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی احباب کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور انتہائی طور پر مالی قربانی دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور قربانی بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ خدا کی راہ میں اموال لٹ جاتے ہیں اور غصب کر لئے جاتے ہیں۔جماعت کو اس سال یہ قربانی بھی دینی پڑی لیکن جماعت نے کس بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیں ان کو ہم نے بھی دیکھا مگر اصل تو وہ