خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 688 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 688

خطبات ناصر جلد دہم ۶۸۸ خطبہ نکاح ۲۲ / دسمبر ۱۹۷۴ء کہ جہاں جہاں احمدیت پہنچی وہاں ان ملکوں میں ملکی سطح پر جماعت کی مخالفت ہوئی اور جتنی جتنی جماعت بڑھی اتنی اتنی مخالفت بھی بڑھتی چلی گئی۔یہ جماعت احمدیہ کی نوے سالہ زندگی کی حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے تھے۔آپ کی مخالفت ایک شخص کی مخالفت تھی۔پھر میں نے بڑا غور کیا ہے اس تاریخی نقطہ پر کہ شروع میں تین چار جگہ پر جماعت احمد یہ قائم ہوئی۔قادیان اور اس کے ماحول میں ، لدھیانہ، دہلی اور شاید ایک آدھ جگہ اور ہو، ان مقامات پر جماعت احمدیہ کی مخالفت شروع ہوئی۔پھر جماعت پنجاب میں پھیلنے لگی اور پنجاب میں اس کی مخالفت بھی شروع ہوگئی پھر ہندوستان میں پھیلی تو سارے ہندوستان میں مخالفت شروع ہوگئی ایک مخالفت ہے کفر کے فتووں کی وہ تو اس وقت شروع ہوئی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا مرید کوئی نہیں تھا مگر میرا گھر کفر کے ان فتووں سے بھرا ہوا تھا جو علماء نے دیئے تھے۔میں اس مخالفت کی بات نہیں کر رہا میں اس مخالفت کی بات کر رہا ہوں جس کے ذریعہ غلط باتیں بتا کر لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔پھر جماعت باہر کی۔دمشق میں پہنچی جہاں سے ہمارے منیر الحصنی صاحب آئے ہوئے ہیں شروع میں بڑا اچھا زمانہ گذرا لیکن پھر جب دیکھا کہ یہ جماعت بڑی مضبوط ہو رہی ہے تو پھر مخالفت بھی بڑی سخت ہو گئی۔یہ لوگ جماعت کے ہیر و ہیں جو سالہا سال سے اس مخالفانہ حالات میں سے گزر رہے ہیں اسی طرح فلسطین ( موجودہ اسرائیل ) میں جماعت تھی جب وہ مضبوط ہوئی تو وہاں بھی مخالفت ہوئی مصر میں مخالفت ہوئی اور اسی طرح دوسری جگہوں پر بھی جہاں جہاں جماعت قائم ہوئی مخالفت شروع ہو گئی پھر جب یورپ میں جماعت احمد یہ پھیلی تو وہاں بھی مخالفت ہوئی۔شروع میں صرف عیسائیت کی مخالفت تھی مگر بعد میں یہ عجیب بات نظر آئی ہے کہ عیسائیت کی مخالفت کے ساتھ مسلمان کہلانے والوں کا ایک حصہ بھی شامل ہو گیا۔چنانچہ عیسائی اور بعض مسلمان سر جوڑ کر ہماری مخالفت کرتے رہے ہیں سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان کا آپس میں کیا جوڑ ہے؟ اسی طرح افریقہ ہے۔وہاں بھی جوں جوں جماعتیں بڑھتی چلی گئیں، مخالفت بھی زیادہ ہوتی چلی گئی لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ملک ملک کی مخالفت تھی۔پچھلے جلسہ سالانہ کے موقع پر دنیا کی آنکھ نے جو چیز پہلی دفعہ محسوس کی وہ یہ تھی کہ ( گوجماعت