خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page vii
V ۴۔وحدت اقوامی اور غلبہ اسلام کے لئے جدید سہولتوں سے استفادہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ وحدت اقوامی کے منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ تمام دنیا ( یعنی دنیا کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تمام ممالک) اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کو یہ سہولت میسر ہو کہ وہ باہمی طور پر مذہبی تبادلہ خیالات کر سکیں۔مثلاً مباحثے ہوں یعنی ایک دوسرے پر اپنے اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے بحثیں ہوں، مناظرے ہوں، کتابیں تصنیف کی جائیں اور ریڈیو پر بخشیں شروع ہو جا ئیں وغیرہ۔اگر چہ یہ سا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہوا تا ہم اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو جب اس سے زیادہ اثر ورسوخ عطا فرمائے گا تو یہ سلسلہ بحث و تقریر بھی انشاء اللہ شروع ہو جائے گا اور وقت بھی جلد آ جائے گا جب اسلام کے غلبہ کی مہم میں ہر قسم کی دنیوی سہولتوں سے انشاء اللہ فائدہ اٹھایا جائے گا۔بہر حال دل یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا اور طاقت ور براڈ کاسٹنگ سٹیشن وہی ہو جہاں سے صبح وشام اللہ اکبر کی آوازیں آرہی ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جارہا ہو۔انشاء اللہ یہ وقت بھی جلد آ جائے گا۔“ (خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۱۵۳،۱۵۲) ۵۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔اس وقت جن نکاحوں کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں ان میں سے بعض رشتے حضرت مسیح موعود لمیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض دوسرے احباب جماعت سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد پر اللہ کے دین کے لئے قربانیاں دینے کی دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی شناخت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا کی اور دوسرے اس لئے کہ اس نے محض اپنے فضل سے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں پیدا کیا۔دوست دعا کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بچے اور وہ نسل جو اللہ تعالیٰ ان سے آگے چلائے۔انہیں اللہ تعالیٰ ان انتہائی قربانیوں کی توفیق عطا کرے جن کی وہ ان سے توقع رکھتا ہے اور انہیں اپنے انعامات کا وارث کرے اور