خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 672 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 672

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۵ /جنوری ۱۹۷۴ء ہماری بہت سی دعاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ان رشتوں کو بہت بابرکت کرے اور اُن کے گھروں کو ان برکتوں سے بھر دے جن کا وعدہ ان مجاہدین سے کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بشاشت سے قربانیاں دیتے ہوئے غلبہ اسلام کی شاہراہ پر چلتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ان خاندانوں پر، جماعت احمدیہ پر اور دنیا پر بھی اس معنی میں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھیں۔حقیقت کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے بندے بن کر دینِ اسلام کے اُن مطالبات کو پورا کرنے والے بنیں جو اس زمانہ میں نفس انسانی سے کئے جار ہے ہیں۔ایک نکاح جس کے لئے دل سے بہت دعائیں نکلتی ہیں وہ عزیزہ بچی امتہ الکریم نزہت صاحبہ بنت مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کا ہے جو عزیزم مکرم مفتی احمد صادق صاحب سے تین ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔عزیزم احمد صادق صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب مرحوم کے بزادہ ہیں۔ہمارے بھائی مکرم محترم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب اس وقت گیمبیا میں تبلیغ اسلام کے کام پر لگے ہوئے ہیں اور اشاعت اسلام کی اس ساری مہم کے انچارج ہیں جو گیمبیا میں جاری ہے۔مکرم حافظ صاحب کی غیر حاضری میں ان کے لڑکے اور عزیزہ امتہ الکریم نزہت صاحبزاده صاحبہ کے بھائی عزیزم مکرم نصیر الدین عبید اللہ صاحب بطور وکیل نکاح موجود ہیں۔ایجاب وقبول کے بعد ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت اور مثمر بثمرات حسنہ بننے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوہ ۷ رفروری ۱۹۷۴ ء صفحه ۴