خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 644
خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۴ خطبہ نکاح ۹ جولائی ۱۹۷۳ء بناتی ہے یعنی ریشم کا تا گہ اپنے اوپر لپیٹ کر سکون بناتی ہے۔اور پھر انسان اس سے ریشم حاصل کرتا ہے۔اور سائنس نے جب اس پہ تجربہ کیا تو سائنس دانوں نے خدا کی عجیب نشانی دیکھی کہ جس وقت سکون مکمل ہو جاتا ہے تو اس وقت اگر فوری طور پر اس سنڈی کو سکون کے اندر مار کے ریشم کی حفاظت نہ کی جائے اور اس کو مہلت دی جائے کہ وہ اپنے لکون میں سوراخ کرے اور باہر نکل آئے تو اتنے تھوڑے سے عرصہ میں ( یہ سارا چند گھنٹوں شاید ۲۴ گھنٹوں کا وقفہ ہوتا ہے ) جس میں سنڈی کی شکل والے کیڑے کا گردن کے اوپر کا حصہ جھڑ جاتا ہے اور ایک نیا سرجس کی بڑی لمبی مونچھیں بھی ہوتی ہیں اور جس کے پر نکلے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑی خوبصورت موٹی موٹی آنکھیں بھی ہوتی ہیں وہ لکون میں سے سوراخ کر کے باہر نکلتا ہے اور پرواز کر جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اس کا بڑا اہم موڑ ہے۔پس یہ ازدواجی تعلق بھی دراصل اسی قسم کا ایک اہم موڑ ہے۔ایک نو جوان بچے اور بچی کے لئے چونکہ اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ دعاؤں کے ساتھ اس کا اعلان کرو۔اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ رشتوں کو با برکت کرے اور جونئی ذمہ داریاں دینی اور دنیوی لحاظ سے ان پر عائد ہونے والی ہیں ان کے نباہنے کی وہ اللہ تعالیٰ سے توفیق حاصل کریں۔دنیا با جوں اور آتش بازی کے ساتھ شادیاں کرتی ہے اور ہم عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنے بچوں اور بچیوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ہمارے ہاں بعض دفعہ ایک وقت میں نکاح ہوتا ہے اور دوسرے وقت میں رخصتا نہ ہوتا ہے۔بہر حال ہم برکت اور رحمت کا بیج بونا چاہتے ہیں۔عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا سے اس کا فضل مانگتے ہیں۔پس میں آج بھی نکاحوں سے قبل ان الفاظ میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو بھی بہت بابرکت کرے اور ایک مسلمان احمدی نوجوان پر اس موڑ پر پہنچنے کے بعد جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بشاشت کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق عطا کرے۔آمین۔میں اس وقت دو نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ایک تو عزیزہ بچی عابدہ باجوہ صاحبہ کا نکاح ہے