خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 635
خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۵ خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء الرِّجَالُ قَامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) اس لحاظ سے بھی مردوں پر بہت سی ذمہ داریاں زائد ڈالی گئی ہیں۔اس لئے ان میں قوت مؤثرہ زیادہ پیدا کی گئی ہے۔گویا ایک رجل ( مرد ) کی حیثیت سے انسان کی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔تاہم اللہ تعالیٰ نے انسان کو بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں کہ وہ ان قوتوں کے لحاظ سے بنیادی طور پر اثر قبول کرنے کا مادہ بھی رکھتا ہے لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کی دوسری مخلوق کا تعلق ہے ان میں عملی استعداد کے لحاظ سے کسی مخلوق میں ہمیں قوت مؤثرہ نظر نہیں آتی۔چنانچہ انسان مجبور ہو جاتا ہے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے کہ ایسے قوائے انسانی جن کی تربیت کے لئے ہمیں قوت مؤثرہ مخلوق میں کہیں نظر نہیں آرہی اور اصول یہ ہے کہ خدا کہتا ہے ہم نے زوجین پیدا کئے ہیں ایک قوت مؤثرہ کے حامل اور ایک قوتِ متاثرہ کے حامل۔اس سے مذہب اسلام نے ، قرآن عظیم نے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارے اندر ایسے قویٰ جو اثر قبول کرنے والے پائے جاتے ہیں اور اس دنیا میں مخلوقات میں سے کوئی اثر ڈالنے والی کوئی ایجنسی یا کوئی طاقت ہمیں نظر نہیں آرہی۔ان قوائے متاثرہ کی نشوونما کے لئے تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قوت مؤثرہ کا سرچشمہ ہے۔اسی لئے سورہ ذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہیں زوجین کی حیثیت میں پیدا کیا ہے اور اس لئے پیدا کیا ہے کہ تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔پھر فرمایا۔فَفِرُّوا إِلَى اللهِ (النَّارِیت : ۵۱) اپنے قومی کی نشو و نما کے لئے تم اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑو۔یعنی اس کی طرف توجہ کرو۔یہ صحیح ہے کہ ہر قوت کی نشوونما خواہ وہ ان مخلوقات کے واسطہ سے ہو آخر کار ان کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے لیکن میں ان قوائے متاثرہ کا ذکر کر رہا ہوں جن پر سوائے اللہ تعالیٰ کی قوت مؤثرہ کے اور کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی۔ایسے موقع پر جو خطبہ نکاح پڑھا جاتا ہے اس میں تین مختلف آیات قرآنیہ پڑھی جاتی ہیں گو یہ آیات یہ کہ کر تو نازل نہیں ہوئیں کہ انہیں نکاح کے موقع پر پڑھا کرو۔اگر کوئی ایک آیت پڑھ دے یا دوسری پڑھ دے تب بھی نکاح کا اعلان ہو سکتا ہے۔حتی کہ صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کے ساتھ بھی نکاح کا اعلان جائز طور پر ہو سکتا ہے لیکن چونکہ ایک بنیادی حقیقت اُمت مسلمہ کے مطہر