خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 634 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 634

خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۴ خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء اہم موضوع ہے جس پر بہت تحقیق ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی کیونکہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔غرض درختوں پر جو تحقیق ہوئی ہے وہ اسی زوجین کے اصول پر مبنی ہے۔اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ درخت ایک ایسی مخلوق ہے جن میں حقیقت زندگی موجود ہے۔گویا درختوں میں زندگی کا احساس پایا جاتا ہے۔چنانچہ اس احساس کی بجائے انسان کو عقل اور شعور عطا ہوا۔جب ہم اپنے اپنے ماحول پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ بات بڑی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے کہ کوئی فرد بشر اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے وجود پر انحصار کر کے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔مثلاً بچہ پیدا ہوتا ہے لڑکا ہو یا لڑکی اس وقت اس کی حالت قوت متاثرہ کے حامل کی ہوتی ہے۔وہ فطرتاً اثر قبول کرنے لگتا ہے۔چنانچہ باپ کی نگہداشت اور ماں کے پیار اور محبت کے بغیر وہ پرورش نہیں پاسکتا۔چنانچہ اس قبول کرنے والی قوت کے ساتھ ایک اثر ڈالنے والی قوت کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یعنی ماں باپ جو ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر بچے کو پالتے ہیں۔اور اس پر اپنے اخلاق و عادات کا اثر ڈالتے ہیں۔پھر جب انسان بڑا ہو جاتا ہے تو اس کو پتہ لگتا ہے کہ حصول علم کے لئے ہر انسان میں (خواہ نر ہو یا مادہ) قوت مؤثرہ پائی جاتی ہے۔تاہم اس وقت بھی زیادہ نمایاں اثر قبول کرنے والی یعنی قوت متاثرہ ہی ہوتی ہے مثلاً انسان کو اتالیق یا استاد کی پروفیسر یا لیکچرار کی اور مربی یا معلم کی ضرورت ہوتی ہے۔جو اس پر اثر ڈال کر اس کی تمام خدا دا د قوتوں کی نشو و نما کر رہا ہوتا ہے۔گو بعض پوری تندہی اور توجہ کے ساتھ کام نہیں کرتے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتتے ہیں لیکن اس حقیقت سے تو ہم بہر حال انکار نہیں کر سکتے کہ اس زمانہ میں بھی ہر فردا پنی زندگی میں جو چیز نمایاں کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ قوت متاثرہ ہوتی ہے یعنی اثر قبول کرنے والی قوت۔پھر جس وقت انسان بلوغت کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی قوت مؤثرہ نمایاں ہو جاتی ہے بالخصوص مردوں میں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔