خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 633 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 633

خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۳ خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء نکاح کا اصل مقصود زوجین کی شکل میں پیدائش کے مقصد کو پورا کرنا ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۴ / جون ۱۹۷۳ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب از راہِ شفقت دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا اور اپنی دوسری ہر قسم کی مخلوق کو احساس عطا کیا جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے انسانی عقل و شعور سے مختلف تو ہے لیکن جس غرض کے لئے انسان کو عقل اور شعور دیا گیا ہے، غیر انسانی مخلوق میں احساس اس غرض کو پورا کر رہا ہے۔یہ احساس یا انسان کے لحاظ سے عقل وشعور اس بنیادی صداقت کا مظہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی مخلوق خود اپنے وجود میں اکیلی کوئی کام نہیں کر سکتی۔اس کو زوج کی ضرورت ہے۔زوج کا جو تخیل اور تصور ہے اس کے پروان چڑھنے کے لئے ایک قوت مؤثرہ کا ہونا اور دوسرے قوتِ متاثرہ کا ہونا ضروری ہے۔ایک قوت اثر ڈالتی ہے اور دوسری اثر قبول کرتی ہے۔یہ اصول دنیا کی ہر چیز میں کارفرما ہے۔عام آدمی کے سمجھنے کے لئے میں درختوں کی مثال لیتا ہوں۔درخت بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں لیکن ان میں عقل اور شعور نہیں بلکہ احساس پایا جاتا ہے جسے ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔یہ بات کہ درختوں میں احساس پایا جاتا ہے علم زراعت کا ایک بہت ہی