خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 603
خطبات ناصر جلد دہم ۶۰۳ خطبہ نکاح ۲۲ جولائی ۱۹۷۲ ء شجرہ نسب دعاؤں کے ساتھ سینچا جانے سے پنپتا ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۲ جولائی ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوہ حضور انور نے بعد نماز مغرب از راہ شفقت دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔شجرہ نسب سے تعلق رکھنے والوں اور باغات میں پلنے والے درختوں کی بہت سی خصوصیات مشترک ہیں۔باغ میں داخل ہوتے وقت بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ دعا کیا کرو کہ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔کیونکہ وہی سب طاقتوں کا اور قوتوں کا سرچشمہ ہے۔انسان تو کمزور اور لاھی محض ہے۔اسی طرح شجرہ نسب بھی حسب خواہش اور حسب امید پنپتا نہیں جب تک دعا کے ساتھ اس شجرہ کی جڑوں کو سینچا نہ جائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کیا جائے۔اس مختصر دعا کے ساتھ میں اس وقت دو نکاحوں کا اعلان کروں گا دوست جانتے ہیں گرمی مجھے تکلیف دیتی ہے۔اس وقت بھی گرمی کی وجہ سے مجھے تکلیف ہورہی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا ہی کے منشا اور حکم کے ماتحت احمدیت میں قائم ہونے والے سب رشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خیر و برکت کا موجب بنائے۔ان سے چلنے والی نسل شیر میں ثمر پیدا کرنے والی ہو۔