خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 601
خطبات ناصر جلد دہم ۶۰۱ خطبہ نکاح ۱۰ جون ۱۹۷۲ء کونپلیں اور شاخیں درست نہیں ہیں۔پس یہ ایک ذمہ داری ہے جو نوع انسانی کے نقطہ نگاہ سے نوع کی طرف سے فرد پر عائد ہوتی ہے۔بعض ذمہ داریاں ہیں جو ایک فرد کی طرف سے دوسرے افراد یا نوع انسان پر عائد ہوتی ہیں۔مثلاً تربیت کی ذمہ داری ہے یہ ذمہ داری ہر فرد کی طرف سے اُس کی نوع پر عائد ہوتی ہے۔ہر فردا اپنی نوع سے یہ کہتا ہے کہ میری صحیح تربیت کرو۔میاں بیوی بھی ایک فرد بن جاتے ہیں۔مثلاً آج جن کے نکاح کا اعلان ہو جائے گا وہ ایک وجود بن جائیں گے۔چنانچہ انسان کا جو درخت وجود ہے وہ اپنی ہر شاخ سے یہ کہتا ہے کہ دیکھنا بدصورت نہ بن جاناور نہ مجھ پر دھبہ آئے گا مجھے خدائے قادر و توانا کی خوبصورتی کے جلوے حاصل کرنے اور دکھانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے روز آخر میں جب اللہ تعالیٰ کی میری طرف نگاہ اُٹھے گی تو کہیں میرے درخت وجود پر بدصورتی کے نشان نہ ہوں۔ورنہ مجھ پر اعتراض آجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔پس بحیثیت نوع ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ہی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حسین ترین وجود بن جائے۔انسانی نوع کی طرف سے جو ذمہ داریاں افراد پر عائد ہوتی ہیں ان میں سے ایک ازدواجی زندگی کی ذمہ داری ہے یہ بھی گویا ایک پیوند لگتا ہے اس کی مثال آپ نے کئی دفعہ سنی ہوگی پیوند کی دیکھ بھال از بس ضروری ہے اگر پیوند کو سنبھالا نہ جائے۔اس کی پرورش نہ کی جائے اور اس کا کماحقہ خیال نہ رکھا جائے تو وہ بڑھ نہیں سکتا۔یہی حال انسانی رشتوں کا ہے۔اگر ان کا بھی خیال نہ رکھا جائے اگر ان کے حسن کے لئے ایثار نہ دکھایا جائے تو یہ پیوند اور یہ رشتہ کامیاب نہیں ہوتا اور اس طرح نوع بشر پر ایک اعتراض پیدا ہو جاتا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو اشرف المخلوقات بنانا چاہا تھا مگر بحیثیت مجموعی انسانیت یہ کہتی ہے کہ اے فرد! تیری وجہ سے میں داغدار ہو گئی۔بعض لوگ شیطان کی گود میں چلے جاتے ہیں ان کی وجہ سے بھی انسانی درخت داغدار اور بدصورت ہو جاتا ہے۔اس کے اوپر دھبے پڑ جاتے ہیں۔