خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 38
خطبات ناصر جلد دہم ۳۸ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء اور گناہ کو معاف کر دیتا ہے اور جس وقت وہ عید کی نماز کے لئے عید گاہ میں پہنچتے ہیں یا جہاں بھی نماز ہو وہاں پہنچتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور نماز میں دعائیں کرتے ہیں کہ اے خدا! تیرے حکم سے ہم عید منا رہے ہیں تو ایسا کر کہ ہماری عید حقیقی عید ہو اور حقیقی خوشیوں کا باعث بنے اور تیری رضا کو ہم واقع میں اور اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود رمضان کی عبادات کے نتیجہ میں حاصل کر چکے ہوں۔غرض جب ہم وہ نماز پڑھتے ہیں اور نماز میں دعا کر چکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہاری کوئی حاجت اب ایسی نہیں جسے میں نے پورا نہ کر دیا ہو اور تمہارے ہر سوال کو میں نے قبول کر لیا اور کوئی گناہ نہیں جسے میں نے معاف نہ کر دیا ہو تب خدا کے بندے جب یہ آوازان کے لئے فضاؤں میں گونج اٹھے اپنے گھروں میں اس صورت میں جاتے ہیں کہ سارے گناہ ان کے معاف ہو چکے ہوتے ہیں یعنی کوئی داغ ان کی روح پر باقی نہیں رہتا۔کوئی نا پا کی ان کے جسموں پر باقی نہیں رہتی کوئی گندگی ان کے ذہنوں میں باقی نہیں رہتی۔ان کے لئے خیر ہی خیر ہوتی ہے وہ عطر سے معطر ہوئے ہوتے ہیں ان کے سینوں میں کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی۔خدا کے نور سے وہ بھر جاتے ہیں اور مَغْفُورٌ لَّهُمْ کی حیثیت میں وہ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔خدا کرے کہ ہمارا آج کا اپنے گھروں کو لوٹنا بھی مَغْفُورٌ لَّهُمْ کے گروہ میں شامل ہونے کے بعد ہی ہو۔خدا کرے کہ اس احساس بلکہ اس علم بلکہ اس یقین کے باوجود کہ ہم خطا کار انسانوں نے ہزار ہا غفلتیں اپنی زندگی میں کیں اور رمضان کے پورے حقوق بھی ہم ادا نہیں کر سکے ہمیں یہ یقین اور علم ہے کہ گناہ خواہ کتنے ہی کثیر کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعتوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے وہ ان کے مقابلہ میں نہیں آسکتے۔خدا کی رحمت کی وسعت نے تو ہر چیز کو اپنے اندر لپیٹا ہوا ہے۔جب وہ معاف کرتا ہے تو اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر : ۵۴) وہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اے ہمارے رب! ہم پا کی اور تزکیہ اور طہارت کا احساس تو نہیں رکھتے لیکن ہم یہ یقین ضرور رکھتے ہیں کہ اگر تو معاف کرنا چاہے تو تو ہر گناہ معاف کر دیتا ہے اور ہماری تیرے حضور عاجزانہ استدعا ہے کہ تو ہمارے سارے گناہوں کو ہی معاف کر دے اور اپنی ساری رحمتوں سے ہی ہمیں نواز۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔