خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 595
خطبات ناصر جلد دہم ۵۹۵ خطبہ نکاح ۸/جون ۱۹۷۲ء جنہیں حقوق العباد کہا جاتا ہے، ان کے متعلق بھی اسلام نے تفصیل سے بتایا ہے کہ اس میں ہر مخلوق کے حقوق شامل ہیں مثلاً کھانا ہے جسے ہم صبح ، پھر دو پہر اور پھر عصر کے بعد (چائے وغیرہ کے طور پر لیتے ہیں اور یہ بھی دراصل کھانے کا حصہ ہوتا ہے ) اور پھر شام کے وقت کھاتے ہیں۔بعض قو میں رات کے گیارہ بجے کھانا کھانے کی عادی ہوتی ہیں۔یہ بظاہر ایک دنیا کا کام ہے۔انسان اپنی زندگی کی بقا کے حصول کے لئے اور اپنی طاقتوں کو قائم رکھنے کے لئے غذا استعمال کرتا ہے۔اس غذا کے بھی اسلام نے بہت سے حقوق رکھے ہیں، جن میں سے ایک حق یہ ہے اور اس کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانا ضائع نہ کرو۔یہ کھانے کا حق ہے۔فرما یا اپنی پلیٹ میں اتنا کھانا ڈالو کہ ایک لقمہ بھی بچا نہ رہ جائے۔یہ قرآن کریم کی ہدایت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے جسے آپ نے قرآن کریم کی بعض آیات کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے۔غرض اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں مخلوق ہی سے ہر خلق کے حقوق قائم کئے گئے ہیں اور تمام حقوق کی ذمہ داری اس انسان کے سپرد کی گئی ہے جسے طاقتیں بھی عطا کی گئیں اور صراط مستقیم پر چلنے یا بھٹک جانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے یعنی اسے یہ کہا گیا ہے کہ یہ تمہاری مرضی ہے کہ تم راہ راست پر چلو یا راہ راست کو چھوڑ دو۔لیکن اگر تم میری ( اللہ ) کی رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں راہ راست یعنی صراط مستقیم پر چلنا پڑے گا۔پس دین اسلام اشرف المخلوقات یعنی انسان کی بھلائی کے لئے آیا ہے۔اور اسلام میں ایک بڑی بھاری ذمہ داری حقوق العباد یا مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں عاید کی گئی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے محترم ڈاکٹر صاحب حقوق العباد کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہزاروں میل دور گئے ہوئے ہیں اور اس طرح انہوں نے اپنا ایک حق ہم پر یہ بھی قائم کیا ہے کہ ہم ان کے لئے ، ان کے خاندان کے لئے ، ان کے عزیزوں اور بیوی بچوں کے لئے دعا کریں اس لئے اس وقت میں بہت سی دعاؤں کے ساتھ (جو اکثر میرے دل میں ہیں اور میں دیر سے کر رہا ہوں ، آپ بھی ان میں شامل ہو جائیں ) اس نکاح کا اعلان کروں گا۔اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو بہت