خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 594 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 594

خطبات ناصر جلد دہم ۵۹۴ خطبہ نکاح ۸/جون ۱۹۷۲ء قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی میں سب کامیابیاں، ہر قسم کی فلاح اور ساری مسرتیں پائی جاتی ہیں۔ہمارے محترم بھائی ڈاکٹر صاحب اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت میں اپنے ملک، اپنے خاندان، اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں، بچوں اور بچیوں سے ہزاروں میل دور گئے ہوئے ہیں تا کہ وہاں انسانی خدمت کے فرائض انجام دیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے از سر نو قرآن کریم کی مختلف آیات کی بار بار تفسیر کر کے اور قرآن کریم نے جن مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے اس مضمون کو بار بار بیان کیا ہے ان کو ہمارے سامنے لا کر ہمیں یہ بتایا ہے کہ دراصل انسانی خدمت نصف ( بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ) دین ہے۔تو گویا حقوق العباد کی ادائیگی نصف دین بن جاتی ہے۔پھر جہاں ہم حقوق اللہ کی ادائیگی کہتے ہیں۔وہاں بھی ایک رنگ میں حقوق العباد ہی کی ادائیگی مراد ہوتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کو اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اس کی حمد کی جائے یا اس کی تسبیح کی جائے یا اس کا ذکر کیا جائے یا اس کو یاد رکھا جائے یا اس سے التجائیں کی جائیں یا اس کے دامن کو پکڑا جائے اس نیت کے ساتھ کہ پھر کبھی چھوڑیں گے نہیں وہ ان چیزوں سے بے نیاز ہے کیونکہ وہ سب قدرتوں کا مالک اور سب بھلائیوں اور فیوض کا سرچشمہ ہے۔وہ کسی کا محتاج نہیں البتہ مخلوق کا ہر فرد اس کا محتاج ہے۔پس اللہ تعالیٰ کو ہماری حمد یا تسبیح یا ذکر وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی ہمیں ضرورت ہے۔جس وقت اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اس کی حمد میں مشغول ہوتا ہے یا اس کی تسبیح کر رہا ہوتا ہے یا اسے یاد کرتا اور اس کی صفات کا ورد کرتا ہے یا اس کی خلق پر غور کر کے اس کی عظمت اور جلال کو دل میں بٹھانے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ دراصل وہ اپنے نفس کی بھلائی کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔چنانچہ اس طرح حقوق اللہ کی ادائیگی انسان کے خود اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی بن جاتی ہے۔کیونکہ یہ فیض انسانی نفس نے حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کو تو فیض نہیں پہنچانا۔وہ تو کسی فیض کا محتاج نہیں ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ جو دوسروں کے حقوق قائم کئے ہیں یعنی انسان کے حقوق