خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 586
خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۶ خطبہ نکاح ۳ رمئی ۱۹۷۲ء میں قیام اور بقا اور اس کا حسن اور اس زندگی میں احسان کا جذ بہ تبھی قائم رہ سکتا ہے جب انسان اپنے آپ کو پاک نہ سمجھے اور نہ خود کو غلطیوں سے معصوم خیال کرے۔حقیقی اور خوبصورت اور خدا کو پیاری زندگی کی بنیاد ہی یہ ہے اور یہی بنیا دمیاں بیوی کے باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں ہمیں نظر آتی ہے۔ہم نے کئی دفعہ دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے کہ خاوند ا اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا اور بیوی اپنی بات پر بضد ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں نے غلطی نہیں کی اور وہ اصرار کرتی ہے کہ تو نے غلطی ضرور کی ہے۔اس طرح بعض دفعہ چھوٹی سی بات پہ بڑا ہی برا نتیجہ نکل آتا ہے۔پس جب کہ ہماری زندگی کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہم کلی طور پر معصوم نہیں ہیں تو بجائے اس کے کہ یہ معصوم نہ ہونا تم کسی دوسرے کے ذمہ لگاؤ اس کو خود اپنے سر لے لو تا کہ اس عاجزی کا تمہیں ثواب مل جائے اور تمہارے گھر میں بدمزگی پیدا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس حقیقت کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے جس قسم کے بھی باہمی تعلقات اس نے قائم کئے ہیں ان کو ہمیشہ خوشگوار رکھے۔ایجاب وقبول کے بعد ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۳ جون ۱۹۷۲ ، صفحه ۳)