خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 580 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 580

خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۰ خطبہ نکاح ۲ را پریل ۱۹۷۲ء (Ring) یعنی چھلا کے اندر لے کر خود میں سمیٹے آگے ہی آگے بڑھا چلا جا رہا ہے اور دوسرے یہ کہ ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں اور مستقبل ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔غرض وہ مستقبل جو بہر حال میرا بھی اور آپ میں سے ہر ایک کا حال بننا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔اور پھر دوسرے درجے پر تنزل کے ساتھ اس دنیا میں اس زندگی کا حال ہے۔بہر حال ہمیں اپنے مستقبل کی فکر میں مستقبل کو سنوارنے کے لئے، مستقبل کو خوشکن اور خوشحال بنانے کے لئے ، مستقبل کو زیادہ منور بنانے کے لئے مستقبل کو زیادہ مسرتوں اور لذتوں کا موجب بنانے کے لئے اور مستقبل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو زیادہ مقدار میں زیادہ کثرت کے ساتھ اور زیادہ حسن کے ساتھ حاصل کرنے کے لئے خود کو اہل بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ہماری زندگی کا ایک شعبہ ازدواجی تعلقات کا ہے۔ویسے ہماری زندگی کے تعلقات تو بے شمار ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہر انسان کا دوسرے انسان پر حق ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک حقیقت ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کروڑوں اربوں انسانوں کے آپس میں تعلقات بنادیئے گئے ہیں۔ان تعلقات میں سے ایک ازدواجی تعلق بھی ہے۔اس کے متعلق بھی اسلام نے بڑی واضح ہدایات دی ہیں۔کیونکہ یہ ایک بڑا ہی قریب کا تعلق ہے اور بہت گہرا تعلق ہے۔اس رشتہ کا تعلق صرف فرد کے ساتھ یعنی میاں کا بیوی کے ساتھ یا بیوی کا میاں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ خاندان کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔پھر ایک خاندان کا دوسرے خاندان کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔پھر ایک علاقہ کا دوسرے علاقے کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔پھر مذہبی خیالات اور اعتقادات کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔اسی لئے جماعت احمدیہ میں جو شادیاں قرار پائی ہیں ہمیں ان کے متعلق بڑا فکر رہتا ہے اور ہماری ہمیشہ یہ دعا ہوتی ہے کہ خدا کرے ہمارے احمدی نوجوان ( مرد بھی اور عورتیں بھی ) وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کی اس الہی ہدایت کی روشنی میں نہ صرف خودا اپنے مستقبل کو سنوار میں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی سنوارنے کے لئے اپنے حال کو۔