خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 581

خطبات ناصر جلد دہم ۵۸۱ خطبہ نکاح ۱/۲ پریل ۱۹۷۲ء قربانیوں سے معمور کر دیں۔پس اللہ تعالیٰ نے آیہ کریمہ کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں فرمایا۔مومنو! تم اپنے مستقبل کا خیال رکھو۔اسی میں تمہاری بھلائی اور بہتری ہے اور یہ حقیقت ہے جیسا کہ میں نے مختصراً بعض تفاصیل بیان کر کے آپ کو بتا دیا ہے۔اب آج جن نکاحوں کا اعلان ہونے والا ہے۔دوسال پہلے تو یہ مستقبل تھا مگر آج عملاً نکاح ہو جانے پر وہ حال بن گیا ہے کیونکہ ان کا آپس میں ایک تعلق پیدا ہو گیا ہے لیکن ہر وہ شخص جو آج اپنی بیوی کا خاوند بنا ہے اس نے دوسال پہلے بہر حال خاوند بننا تھا چاہے اس کو اپنی ہونے والی بیوی کا علم ہوتا یا نہ ہوتا۔غرض آج کے ان رشتوں کے طے پا جانے پر دو سال پہلے کا جو مستقبل تھا وہ جب آج کا حال بنا تو خدا تعالیٰ کی یہ شان دیکھو کہ مجلس مشاورت کے کام کی جو کوفت تھی مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کوفت کو دور کرنے کے لئے اور اس کوفت سے توجہ ہٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بے انتہا فضلوں سے اتنی بڑی خوشیاں ہماری جھولیوں میں ڈال دی ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - بعد ازاں حضور انور نے نکاحوں کا اعلان فرمایا۔جن کی تفصیل یہ ہے۔۱۔محترمہ امۃ الرشید صاحبہ بنت مکرم چوہدری عبدالرحیم خان صاحب ربوہ کا نکاح محترم عبدالله صاحب جاوید ابن مکرم چوہدری عبد الجلیل خاں صاحب کے ساتھ تین ہزار روپے حق مہر پر۔-۲- محترمہ صبیحہ ناصرہ صاحبہ بنت مکرم منظور احمد خاں صاحب ربوہ کا نکاح محترم عبدالغفور صاحب نسیم ابن مکرم عبدالرشید صاحب انور بدوملہی کے ساتھ چار ہزار روپے حق مہر پر۔محترمہ آمنہ پروین صاحبہ بنت چوہدری عبدالرحمان صاحب خا کی ربوہ کا نکاح محترم نسیم احمد صاحب اقبال ابن مکرم چوہدری فضل الہی صاحب ربوہ کے ساتھ تین ہزار روپے حق مہر پر۔-۴- محترمہ امتہ المتین صاحبہ بنت مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ کا نکاح مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب باجوہ ابن مکرم چوہدری نصر اللہ خاں صاحب ضلع ساہیوال کے ساتھ پانچ ہزار روپے حق مہر۔۵- محتر مہ نیز ظفر صاحبہ بنت مکرم کرنل محمد ظفر اللہ خاں صاحب لا ہور چھاؤنی کا نکاح مکرم کلیم احمد خان