خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 579
خطبات ناصر جلد دہم ۵۷۹ خطبہ نکاح ۲ را پریل ۱۹۷۲ء گویا حال کا لمحہ بن گیا اور پھر جو اس کے بعد کا لمحہ ہے وہ حال کا لحہ بن گیا اور یہ وہ مستقبل ہے جو اُخروی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔انسان نے مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور پھر اس کے لئے ابدالآباد تک کا مستقبل ہے گویا نہ ختم ہونے) والا زمانہ ہے۔بہر حال جو بھی وہ زمانہ ہے۔ہم اس کی کنہ میں نہیں جاسکتے۔ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ زندگی انسانی تخیل میں نہیں آسکتی۔لیکن اگر وہ زندگی زندگی ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس شکل میں بھی وہ زندگی ہے۔اس شکل میں ہی حال اور مستقبل پر محیط ہے اور اخروی زندگی میں بھی جو مستقبل ہے وہ حال بن جائے گا۔اس واسطے بعض لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ اس وقت عمل نہیں کرنا پڑے گا۔اخروی زندگی میں اعمال نہیں بجالانے پڑیں گے یہ خیال غلط ہے اخروی زندگی میں اعمال تو بجالانے پڑیں گے البتہ وہاں ابتلا اور امتحان نہیں ہوں گے۔اگر اخروی زندگی میں اعمال نہیں تھے تو ہمیں یہ دعا کیوں سکھائی گئی۔رَبَّنَا اثْمِمُ لَنَا نُورَنَا (التحريم : ۹) اے ہمارے رب! ہمارے نور کو مکمل سے مکمل تر بناتا چلا جا۔یہ بھی ایک عمل ہے یعنی دعا بھی ایک عمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دعا تدبیر ہے۔پس دعا بھی اور اللہ تعالیٰ کی حمد بھی ایک عمل ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے نظر آنے پر اس کی حمد کے ترانے گانا بھی ایک عمل ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جب نظر آتے ہیں تو ان کا انسانی وجود پر ایک رد عمل ہوتا ہے یہ بھی ایک لحاظ سے عمل ہی ہے میں نے جان کر جسم نہیں کہا وجود کا لفظ بولا ہے کیونکہ جسم سے غلط فہمی کا امکان ہے۔غرض مرد کے وجود میں جب الہی صفات کے جلوے رونما ہوں گے تو اس میں کوئی نئی تبدیلی ضرور پیدا ہوگی۔چنانچہ اخروی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔انسان اللہ تعالیٰ کی اور بھی زیادہ حمد کرے گا اور یہ تبدیلی خود ایک عمل ہے پھر یہ تبدیلی ایک اور عمل کی طرف لے جانے والی ہے یہ حالت ایک اور خوشکن حسین اور خدا تعالیٰ کے احسانوں سے بھرے ہوئے مستقبل کی طرف لے جا کر ان کو حال میں تبدیل کرنے والی ہے۔پس ہم مستقبل کو دونوں طرح سے دیکھتے ہیں۔ایک یہ کہ ہمارا حال مستقبل کو اپنی رنگ