خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 578
خطبات ناصر جلد دہم ۵۷۸ خطبہ نکاح ۲ را پریل ۱۹۷۲ء زمانہ بڑا ہی بد قسمت ہے جس نے مستقبل کی فکر نہیں کی اور حال کا وہ زمانہ بڑا ہی خوش قسمت ہے جس نے خوبصورت بیل بوٹے ڈال کر اپنے زمانہ کو ماضی کی طرف لڑھکا دیا اور حال کے زمانہ میں مستقبل کی خوبصورتیوں کا، مستقبل کے حسن کا مستقبل کے احسان کا ، اور مستقبل کی کوششوں کا، مستقبل کی جدو جہد کا مستقبل میں پائے جانے والے اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا اور مستقبل میں حاصل کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کا خیال رکھا۔اسی لئے قرآن کریم نے ، فرمایا۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔گو اس آیت کو اس موقع پر بھی پڑھا جاتا ہے مگر یہ ہے۔ایک مستقل اور بنیادی حکم اس لئے محض حال مست ہو کر رہ جانا انسانی سرشت اور فطرت کے بھی خلاف ہے اور انسان کے وقار اور اس کی فراست کے بھی خلاف ہے۔در اصل مستقبل کا خیال حال کے زمانے میں رکھنا چاہیے تا کہ جس وقت مستقبل مرورزمانہ کے ساتھ حال میں داخل ہو تو وہ بڑا خوشحال اور پر مسرت زندگی والا ہو۔اس حال کے لئے ہم نے تیاری کرنی ہے لیکن یہ حال وہ حال ہو گا جو آج مستقبل ہے اور سال کے بعد وہ حال کے زمانہ میں تبدیل ہو جائے گا یا دو سال کے بعد حال بن جائے گا یا دس سال کے بعد حال بن جائے گا۔تاہم جو مستقبل انفرادی حال نہیں بنتا اس کا مجھ سے یا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔یعنی اگر دس سال سے پہلے کوئی آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس دنیوی زندگی میں جو سال اس کے بعد آنا ہے اس کا مرنے والے کے حال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اس کا حال تو وہ نہیں بنے گا۔لیکن ایک ایسا مستقبل ہے جو بہر حال میرا تیرا حال بننا ہے ( مگر دنیا کا ہر مستقبل میرا تیرا حال نہیں بنتا۔یعنی بیس سال کے بعد ، تیس سال کے بعد یا پچاس سال کے بعد یا سوسال کے بعد کا جو زمانہ ہے وہ حال کی طرف حرکت تو کر رہا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ میرے حال کی طرف حرکت کر رہا ہو یہ کوئی اور آدمی ہو گا جس کے حال کی طرف وہ حرکت کر رہا ہوگا ) لیکن ایک مستقبل ایسا بھی ہے کہ جو بہر حال میرا بھی حال بننا ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس حال میں سے انسان نے گزرنا ہے اور پھر گزرتے چلے جانا ہے۔ایک لمحہ کے بعد دوسر المحہ آئے گا اور جو بعد کالمحہ ہے وہ