خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 577 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 577

خطبات ناصر جلد دہم ۵۷۷ خطبہ نکاح ۱/۲ پریل ۱۹۷۲ء مومن کو ہمیشہ اپنے مستقبل کو سنوار نے کی کوشش کرنی چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۱/۲ پریل ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر از راہ شفقت بارہ نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ میں جو میں نے آخر میں پڑھی ہے فرماتا ہے۔وَلْتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) یعنی ہر آدمی اس بات پر نظر رکھے کہ اس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔زمانہ ماضی کا بھی ہے۔حال کا بھی اور مستقبل کا بھی ہے۔جہاں تک انسانی زندگی کا سوال ہے حال سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ماضی کا ہر لمحہ حال کے سائفن میں سے گزر کر اس کا ٹھپہ قبول کرتا ہے۔مثلاً ایک چھوٹا بچہ ہے اس کی عمر کا ہر روز اس کا حال ہے اور اس کی نشوونما پر حال کی ایک مہر لگ رہی ہے اور ایک نشان لگ رہا ہے۔جب وہ ایک سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو گویا پہلا سال پیچھے چلا گیا اور دوسرا سال شروع ہو گیا پھر اسی طرح تیسرا سال یہاں تک وہ جوان ہو جاتا ہے۔اس پر جوانی کا سال آجاتا ہے اور پھر شادی کا سال آجاتا ہے۔جس طرح کہ آج کی یہ تقریب بہتوں کے لئے شادی کے سال کے مترادف ہے۔پس حال کے زمانہ کا ٹھپہ ماضی پر لگا ہے اور حال کو مستقبل کی بھی فکر کرنی چاہیے۔حال کا وہ