خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 572

خطبات ناصر جلد دہم ۵۷۲ خطبہ نکاح ۲۸ نومبر ۱۹۷۱ء امۃ الرشید بیگم صاحبہ کی بچی امتہ النور ہے۔عزیزہ بچی امتہ النور کا نکاح عزیزم مکرم ڈاکٹر عبدالمالک شمیم احمد صاحب سے جو مکرم مولوی عبدالباقی صاحب کے صاحبزادے ہیں دس ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس رشتے کو بھی اور بقیہ پانچ رشتوں کو بھی جن کا میں اعلان کروں گا۔اپنی رحمت سے بہت خوشیوں کا وارث بنائے۔ہر دو افراد کے لئے بھی اور احمدیت کے لئے بھی۔اصل نیست تو اسلام کی بھلائی ہی کی ہونی چاہیے۔احمدیت نے ایک لمبے عرصے کی جدو جہد کے بعد غلبہ اسلام کی راہ میں آخری اور انتہائی کامیابی حاصل کرنی ہے۔اس لئے ایک کے بعد دوسری نسل کا صحیح تربیت پانا اور ان کا صحیح ذہنیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو انسان کی ساری کوششیں ناکارہ اور بے نتیجہ ہیں۔پس ہم دعا کرتے ہیں کہ ان رشتوں سے بھی اور جو رشتے جماعت کے اندر ہو چکے ہیں یا آئندہ ہونے والے ہیں۔ان رشتوں کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی مضبوطی اور اسلام کے استحکام کے سامان پیدا ہوں۔اس کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کا تفصیل ذیل اعلان فرمایا۔۱۔محترمہ امتہ النور بیگم صاحبہ بنت مکرم میاں عبدالرحیم احمد صاحب کا نکاح مکرم ڈاکٹر عبدالمالک شمیم احمد صاحب کے ساتھ بعوض دس ہزار روپے حق مہر۔محترمه منصورہ نازلی صاحبہ بنت مکرم ڈاکٹر احسان علی صاحب کا نکاح مکرم سید مبارک احمد شاہ صاحب ابن مکرم سید طفیل محمد صاحب مرحوم چنیوٹ کے ساتھ بعوض دس ہزار روپے حق مہر۔-۳- محترمه فریده بشیر صاحبہ بنت مکرم بشیر احمد صاحب مرحوم ربوہ کا نکاح مکرم محمد اشرف الحق صاحب شاہد کے ساتھ دو ہزار روپے حق مہر پر۔محترمہ امۃ النور صاحبہ بنت مکرم مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب ربوہ کا نکاح مکرم لئیق احمد صاحب طاہر سابق مبلغ انگلستان کے ساتھ تین ہزار روپے حق مہر پر۔۵- محترمہ سلیمہ شاہنواز بنت مکرم ڈاکٹر شاہنواز خان صاحب ربوہ حال مقیم انگلستان کا نکاح مکرم ڈاکٹر