خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 546
خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۶ خطبہ نکاح ۳ رستمبر ۱۹۷۰ء کہ قریباً پندرہ ہزار عورتوں سے انہوں نے مصافحے کئے۔ان سے باتیں کیں۔ان کی دلجوئی کی اور انہیں نصائح کیں ان سے محبت اور پیار کا اظہار کیا اور ان کی تسلی کا باعث بنیں اور برابر پردہ کرتی رہیں۔جہاں ہم نے بنیادیں رکھیں وہاں انہوں نے بھی بنیا د رکھی۔کئی جگہ جہاں ہمارے جلسے ہوتے تھے وہاں میں انہیں اپنے پاس سٹیج پر بٹھا لیتا تھا اور یہ پردہ کرتے ہوئے میرے ساتھ بیٹھ جاتی تھیں۔ہماری ایک عرب شاعرہ نے عربی میں ایک دو بڑے اچھے شعر کہے ہوئے ہیں اور جن کا مفہوم یہ ہے کہ پردہ اور حیا نے مجھے اس بات سے نہیں روکا کہ میں مردوں کا مقابلہ کروں اور ان سے آگے نکل جاؤں۔چنانچہ بہت ساری آگے نکل بھی ہیں۔میں یہ مثال پہلے بھی کہیں بیان کر چکا ہوں کہ میدانِ جنگ میں ایک ٹھاٹھہ باندھا ہوا سوار حضرت خالد بن ولید کے پاس ان کی طرف توجہ دیئے بغیر گھوڑا دوڑاتے ہوئے گذر گیا اور ایک طرف جا کر رومی کو نیزہ مار کر قتل کر دیتا تھا اور سوار ہو کر دوسری طرف نکل جاتا تھا اور کئی آدمی اس نے اسی طرح مار دیئے اور وہ حیران تھے۔جب حضرت خالد بن ولید صفیں درست کر چکے تو انہوں نے پوچھا اے سوار تم کون ہواس نے پرواہ نہیں کی اور پاس سے نکل گیا۔پھر دوسری طرف سے آتے ہوئے جب پاس سے گذرا تو انہوں نے پوچھا کہ اے سوار تم کون ہو۔میں تمہیں بطور سالار کے حکم دیتا ہوں کہ تم ٹھہر جاؤ۔بتاؤ تم کون ہو۔تمہارا نام کیا ہے۔تم اپنا چہرہ دکھاؤ۔اس نے بڑی مشکل سے اپنا گھوڑا روکا اور پلٹ کر کہا کہ میرا یہ نام ہے لیکن تم میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ میں پردہ نشین مسلمان عورت ہوں۔پس جنگ کے میدان میں جہاں ضرورت پڑی وہاں مسلمان عورتوں نے کام کیا۔سپاہیوں کی تیمار داری کی۔ان کو پانی پلا یا وغیرہ۔غرض پردہ کسی جائز کام کے راستے میں روک نہیں ہے اور بے پردگی ہزار جائز کاموں کے راستے میں روک ہے اس کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔بے پر دعورتیں اپنی جائز اور ضروری ذمہ واریوں کو نباہ نہیں سکتیں۔ہمارے نوجوانوں میں ( ساروں میں تو نہیں ) ایک بڑی اچھی رو پیدا ہوئی ہے بڑے اچھے پڑھے لکھے ولایت سے واپس آنے والے نوجوان مجھے لکھ چکے ہیں کہ ہمیں بہت پڑھی ہوئی آزادلر کی نہیں چاہیے ہمیں میٹرک پاس پردہ نشین لڑکی چاہیے کیونکہ اس قسم کی