خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 540 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 540

خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۰ خطبہ نکاح یکم اگست ۱۹۷۰ء وہ جو محض ماضی میں زندگی گزارتے ہیں انہیں صحیح معنی میں بوڑھے کہا جاتا ہے بڑھاپے کی اصل تعریف یہ ہے کہ انسان ماضی میں کھویا ر ہے۔اس تعریف کی رو سے بہت سے ایسے انسان بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں جو مرتے دم تک بوڑھے نہیں ہوتے۔دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو حال میں مگن ہیں۔نہ ماضی سے نتائج اخذ کرنے والے اور نہ مستقبل کی فکر کرنے والے۔بس حال میں محورہ کر زندگی کے دن گزار رہے ہیں لیکن کچھ وہ ہیں جو ماضی اور حال کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہمیشہ مستقبل کے خیال میں رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسی گروہ کی تعریف کی ہے اور اس میں شامل ہونے کے لئے ہمیں متوجہ کیا ہے۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔بات یہ ہے کہ ماضی میں کھوئے رہنے والے لوگوں یا حال میں مگن عیاش اور مستقبل کی فکر نہ کرنے والوں کی بجائے حقیقی مستقبل کی حقیقی فکر کرنے والے ہی مومن ہیں وہ نہ صرف اس دنیا کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں بلکہ اس حقیقی مستقبل کی جو اس دنیوی زندگی کے بعد نئی زندگی کے حاصل ہونے کے وقت سے شروع ہوتا ہے اور پھر ختم نہیں ہوتا اس کی بھی فکر کرتے ہیں۔پس زندہ وہی ہے اور زندہ وہی رہے گا۔موت اسی پر نہیں آئے گی جو مستقبل کی فکر کر رہا ہو۔جن خوشیوں میں آج ہم شریک ہو رہے ہیں خدا کرے کہ وہ نئے تعلقات جن کا ہر لحاظ سے مستقبل پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے وہ خوشنما مستقبل اور ثمر آور کوشش والے تعلقات ہوں اور ان تعلقات سے تعلق رکھنے والی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آج سے شروع ہو کر ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی رحمتیں ثابت ہوں۔ایجاب وقبول کے بعد حضور نے ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )