خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 536

خطبات ناصر جلد دہم ۵۳۶ خطبہ نکاح ۲۳ / مارچ ۱۹۷۰ء کہ اپنے رب کے ساتھ سیدھے ہو کر اپنی زندگی کے دن گزارو۔خلوص نیت کے ساتھ اور اس یقین کے ساتھ کہ ہماری ہر بات دنیا کے لئے ظاہر بھی اور دنیا کے لئے پوشیدہ بھی ، غرض ہماری ہر بات اللہ تعالیٰ پر ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ساری ہی چیزیں ہیں اس لئے ہر خیر کا منبع اسی کی ذات ہے۔ہمیں اسی کی طرف جھکنا چاہیے اور اسی سے ہر بھلائی اور خیر اور نیکی طلب کرنی چاہیے۔دنیا سینکڑوں ہزاروں بار انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے لیکن ہمارا رب کریم جو انتہائی طور پر پیار کرنے والا رب ہے وہ ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتا اور جولوگ خلوص نیت کے ساتھ اس کے آستانہ پر جھکتے ہیں وہ اس سے اپنی نیک مرادوں کو حاصل کر لیتے ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عزیزہ بچی کے لئے ہر قسم کی خیر اور مسرت اور خوشحالی کے سامان پیدا کرے جو ہمارے ایک واقف زندگی مرحوم کی بچی ہے اور جن کا نام عزیزہ رضیہ فردوس ہے جو مکرم محترم پروفیسر محمد ابراہیم صاحب ناصر مرحوم کی صاحبزادی ہیں ان کا نکاح عزیزم مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب سے دس ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔ہماری اس عزیزہ بچی کے والد چونکہ وفات پاچکے ہیں۔ان کے بھائی فلائنگ آفیسر محترم محمد ذکر یا داؤ د صاحب حقیقی بھائی ہونے کے لحاظ سے ان کے ولی ہیں۔ایجاب و قبول کرانے کے بعد حضور انور نے اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )