خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 535
خطبات ناصر جلد دہم ۵۳۵ خطبہ نکاح ۲۳؍ مارچ ۱۹۷۰ء ہماری ہر بات اللہ تعالیٰ پر ظاہر اور اس کے علم میں ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۳ / مارچ ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے از راہ شفقت ظہر کی نماز کے بعد محترمہ رضیہ فردوس صاحبہ بنت مکرم محترم پروفیسر محمد ابراہیم ناصر صاحب مرحوم کے نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب ابن مکرم چوہدری عنایت علی صاحب گوجرہ سے دس ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔حضور انور نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:۔اسلام ہمیں جس اللہ رب العالمین پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔نہ وہ چیزیں جو ظاہر میں انسانی آنکھ دیکھتی ہے اور نہ وہ چیزیں جو نیم پوشیدہ صورت میں انسانی فراست کے مشاہدہ میں آتی ہیں اور نہ وہ چیزیں کہ جنہیں انسان کی کوئی طاقت بھی معلوم نہیں کر سکتی۔مگر یہ سب چیزیں ہمارے رب کے سامنے اسی طرح کھلی ہوئی ہیں جس طرح کہ انسان جب سورج کے سامنے ہو تو سورج ہر لحاظ سے پورے زور کے ساتھ اپنے وجود کا خود ثبوت دے رہا ہوتا ہے۔بیچ میں کوئی پردہ اور حجاب نہیں ہوتا۔ہمارے دلوں کی حالت کو جاننے والا ، ہمارے سینے کے خیالات پر نظر رکھنے والا ہمارا رب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا ہے