خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 505
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء اندراندرا سے ادا کر دیں گے۔حضور انور نے فرمایا:۔نمائشی مہر نہیں رکھنا چاہیے۔مہر نیت کے مطابق ہونا چاہیے۔اگر پچاس ہزار روپے کی نیت ہے تو ٹھیک ہے۔( ہر دو فریق سے استفسار فرمانے کے بعد حضور انور نے فرمایا ) میرا یہ خیال ہے آپ اس کو پچیس ہزار روپے کر دیں۔(۴) ایک نکاح فارم نامکمل تھا۔اس پر حضور انور نے فرمایا:۔جس شخص نے مجھ سے نکاح پڑھوانا ہو اس کا یہ مذہبی فرض ہے کہ وہ فارم کو صحیح پر کرے اس واسطے کہ اس وقت قانونِ وقت بھی بیچ میں دخل دیتا ہے اور آپ میں سے کسی شخص کو یہ جرات نہیں کرنی چاہیے کہ خلیفہ وقت کو قانونِ وقت کے سامنے شرمندہ کرے۔حضور انور نے فرمایا:۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت خوشیاں دکھائی ہیں۔یہ تو ایک بیج ہے جو بویا گیا۔خدا کرے کہ یہ درخت جو آج باغ کی شکل میں جماعت احمدیہ میں لگا ہے یہ بڑھے اور پھولے اور پھلے۔نظر کو بھی خوشگوار معلوم ہو اور پھل بھی بڑے اچھے اور لذیذ ہوں۔ایک دفعہ کا مجھے لطیفہ یاد آ گیا۔ایک سر پھرا مچلا جاٹ تھا۔وہ احمدی نہیں تھا۔ہم گاؤں میں گئے ہوئے تھے۔وہ مجھ سے کہنے لگا کہ ساڈا مولوی تے کہندا ہے کہ اسی تدمناں گے کہ مسجد دے مینار تے ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کی بات ہے ) حضرت صاحب آکے تے امب دی گٹھلی لگان اور اسی وقت اوہ درخت بن جائے۔پھراوں نوں پھل لگ جان پھر اسی کھائیے پھر اسی احمدی ہو جاواں گے۔“ مجھے بڑا سخت غصہ آیا۔میں نے کہا تمہارے مولوی کو اگر آم کھانے کا اتنا شوق ہے تو موسم پر آجانا میں اس کو اتنے آم کھلاؤں گا کہ اس کے نتھنوں میں سے آم کا رس نکلنے لگ جائے گا۔ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو باغ ہے اس کو پھل آئیں اور تم لوگوں کو اس کی فکر نہیں۔پس یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باغ ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ باغ نظر کے لئے بھی اور دوسرے حواس کے لئے بھی اور اپنی تاثیرات میں بھی اور آئندہ خدمت گزاروں کی فوج تیار کرنے کے لحاظ سے بھی ہر طرح با برکت