خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 28
خطبات ناصر جلد دہم ۲۸ خطبہ عیدالفطر ۲۲ دسمبر ۱۹۶۸ء اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جو ذمہ داریاں وہ ہم پر ڈال رہا ہے۔ہم انہیں اس طرح نبا ہیں کہ وہ ہم سے خوش ہو جائے۔ہم دراصل ایک عید کے زمانہ میں داخل ہیں لیکن یہ ایک اور مضمون ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر ہم غور کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی دنیوی خوشی اور عید وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے کہنے پر منائی جائے۔اسی میں خیر ہے۔اسی میں برکت ہے اور جب ہمیں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ خوش ہو جاؤ اور خوشی سے اچھلو تو ہمارا کام ہے کہ ہم خوش ہوں اور ہماری طبیعتوں میں بشاشت پیدا ہو اور ہم خوشی سے اچھلیں۔جب ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے کہ کھاؤ اور پیو تو ہمارے لئے یہ فرض ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے کھا ئیں بھی اور پیئیں بھی اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کھلائیں اور پلائیں اور اس کے پیچھے جو حقیقت ہے وہ تو ظاہر ہی ہے۔اس کے پیچھے جو حقیقت ہے وہ سارا رمضان ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری خوشیوں اور مسرتوں کا سامان صرف اس چیز میں ہے کہ جب میں کہوں کھانا چھوڑ دو تو تم کھانا چھوڑ دو اور جب میں کھانا کھانے کی اجازت دوں تو تم کھانا کھانے لگ جاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے لئے ہر قسم کی خوشیاں اور مسرتیں پیدا کر دی جائیں گی۔خدا کرے کہ ساری ہی مسرتیں اللہ تعالیٰ ہمارے لئے پیدا کرتا چلا جائے۔اپنے فضل سے نہ کہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں دعا کراؤں گا۔آپ اپنے لئے بھی دعا کریں اور جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لئے بھی دعا کرتے رہیں۔جلسہ سالانہ کے دن برکات کے دن ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے رمضان کی برکتوں کے تسلسل میں ہی جلسہ آگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور ہمارے باہر سے آنے والے بھائیوں کو بھی جلسہ سالانہ کی تمام برکات میں حصہ دار بنائے۔جہاں اجتماع ہوتے ہیں وہاں بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔مثلاً نزلہ اور کھانسی کی بیماریاں ہیں۔جلسہ سالانہ پر ہر جگہ سے لوگ آئیں گے اگر کسی جگہ نزلہ اور کھانسی کی وبا ہے تو ہوسکتا ہے بعض دوست وہ وبالے کر یہاں پہنچیں اور دوسروں کی صحت کے لئے خطرہ پیدا ہو جائے