خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 29

خطبات ناصر جلد دہم ۲۹ خطبہ عید الفطر ۲۲ ؍دسمبر ۱۹۶۸ء (اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہو ) لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم عاجز بندوں کی دعاؤں کوسن کر ( اور ہماری کیا دعائیں ہیں اصل میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں ہیں ) اور انہیں قبول فرما کر اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور کرتا چلا آیا ہے کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں بیماری عام نہیں ہوتی۔پس دعائیں کرو کہ جس طرح پہلے جلسوں پر اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا ہم نے مشاہدہ کیا تھا۔اس جلسہ پر بھی ہم اس کی رحمت اور فضلوں کا پھر مشاہدہ کریں اور آئندہ ہر جلسہ پر بھی مشاہدہ کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور باہر سے آنیوالوں کو بھی ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔باہر سے آنے والے دوست بہت سی تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ان میں اکثر بیوی بچوں کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔انہیں جماعت کے مرکز اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ اس قدر محبت اور پیار ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور بہتوں کا سر شاید وہ دیکھ کر چکرا جائے کہ کیا کبھی دنیا میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ماں کو اپنے بچے سے زیادہ اپنے مرکز اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جلسہ سے پیار ہے۔دیر کی بات ہے۔جن دنوں میں افسر جلسہ سالا نہ ہوا کرتا تھا۔ایک سپیشل ٹرین آئی میں بھی اس کے معائنہ کے لئے اسٹیشن پر پہنچا ہوا تھا۔وہاں میں نے ایک نہایت ہی حسین نظارہ دیکھا۔ایک ماں کی گود میں چھوٹا سا بچہ تھا۔شاید وہ دو تین ماہ کی عمر کا ہو۔دودھ پیتا بچہ۔وہ اس کو گود میں لے کر گاڑی میں کھڑی تھی۔جب گاڑی اسٹیشن پر کھڑی ہوئی تو ربوہ کا پیار اس سے پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہا تھا۔اسے اس وقت بچہ کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔اس کا کوئی رشتہ دار اس سے پہلے اتر کر پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔اس نے اپنا بچہ اس کی طرف یوں پھینکا۔جس طرح ایک مسافر اپنی گٹھڑی کو پھینکتا ہے۔بچہ کی محبت پر خدا اور اس کے رسول کی محبت غالب آئی ہوئی تھی۔غرض باہر سے آنے والے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں۔وہ ہر قسم کی محبتوں اور تعلقوں کو قربان کر کے یہاں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حقیر کوششوں کو قبول کرے اور انہیں راہ کے ہر فتنہ اور ہر تکلیف اور ہر بے آرامی سے اپنی حفاظت میں رکھے۔یہاں آتے ہوئے بھی اور واپس اپنے