خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 490
خطبات ناصر جلد دہم ۴۹۰ پسر محمد کریم بیگ صاحب حال انگلستان سے بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔خطبہ نکاح ۲۶/اکتوبر ۱۹۶۹ء ان آیات میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ نکاح کے رشتہ میں بھی قول سدید برکت والی چیز ہے۔اگر میاں بیوی اپنے تعلقات میں اور اپنے تعلقات کے اظہار میں کسی قسم کا تکلف اور تصنع نہ کریں اور کوئی ایچ بیچ والی بات نہ ہو۔بات سیدھی بھی ہو اور سچی بھی تو اس کے نتیجہ میں ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح ہوگی اور وہ اصلاح پذیر رہیں گے۔اس کے بعد اگر ان کی کوشش میں کوئی نقص اور خامی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دے گا۔قول سدید ہماری زندگی میں بڑی اہم چیز ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے صرف سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے سچ بولنے کی بھی تعلیم دی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اسلام نے صرف یہی تعلیم نہیں دی کہ بات سچی ہو بلکہ اس نے قول سدید کی تعلیم دی ہے یعنی بات سچی بھی ہو اور سیدھی بھی ہو۔بعض لوگ پیچ والی بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور اسے بری نگاہ سے نہیں دیکھتے۔زندگی میں سب سے زیادہ نازک رشتہ میاں بیوی کا ہے اس لئے اسلام میں اس کی حفاظت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔اس رشتہ کو بابرکت بنانے کے لئے ، اس کو کامیاب بنانے کے لئے اور اس سلسلہ میں کوششوں کے اچھے ثمرات نکالنے کے لئے بنیادی تعلیم یہ ہے کہ آپس کی بات چیت اور تعلقات قول سدید پر قائم ہوں اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ ان میں برکت دے گا اور دونوں خاندانوں کے تعلقات اچھے رہیں گے۔خاندان تو ایک جزو ہے معاشرہ کا لیکن ہے بڑی اہم چیز۔یہ بڑی اہم حیثیت رکھتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس حکم پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہم اپنی زندگیوں میں صرف صداقت اور سداد کے قائل ہوں اور پختگی کے ساتھ اس پر قائم ہوں۔اس وقت میں پانچ نکاحوں کا اعلان کروں گا انشاء اللہ۔جن بچوں کا آج نکاح ہورہا ہے وہ سب ہی میرے عزیز اور بچے ہیں۔جماعتی لحاظ سے تو وہ سب برا بر ہیں لیکن بعض خاندانوں کے