خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 482

خطبات ناصر جلد دہم ۴۸۲ خطبہ نکاح ۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء پیروی ہی میں ہماری بہتری اور بھلائی کا راز مضمر ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بڑی بلند تھی۔آپ کا مقام بڑا ارفع تھا۔اس لئے ہمارے لئے آپ کے اسوہ کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔ایسا خیال درست نہیں ہے بلکہ اگر آپ غور کریں تو شاید ان اسباب میں سے جن کے نتیجہ میں امت مسلمہ کو تنزل کے ایک اندھیرے دور میں سے گزرنا پڑا۔ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ مسلمانوں نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم کمزور اور ناتواں اور جاہل اور کم طاقت ہیں اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرسکیں یا آپ کے طریق کو جاری کر سکیں۔آپ کا بلند مقام تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی روحانی طاقتیں عطا کر رکھی تھیں۔اللہ تعالیٰ سے آپ کا تعلق اس قسم کا تھا کہ آپ دنیا میں اپنے اخلاق کے حسین نمونے پیش کرتے چلے گئے اور یہ کہ ہم تو کمزور ہیں۔ہمارے لئے آپ کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس دن اُمت مسلمہ نے اس غلط خیال کو اپنا لیا اور اکثریت اس خیال کی حامل بن گئی کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تو محض ایک فلسفہ ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت نہیں۔اس وقت سے امت میں کمزوری پیدا ہونی شروع ہوگئی اور اس وقت سے ہی تباہی اور تنزل کے آثار شروع ہو گئے۔پھر جو اس امت کا حال ہوا اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اسے ہر ایک جانتا ہے۔دنیا کی تاریخ نے اسے محفوظ رکھا ہے اور دراصل یہ بعد کی نسلوں کے لئے عبرت کا ایک تازیانہ ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ قائم ہی اس لئے ہوا ہے کہ ہم اس کی پیروی کریں۔البتہ یہ صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی ہر شخص نے اپنی قوت اور استعداد کے مطابق کرنی ہوتی ہے اور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق آپ کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھانا ہوتا ہے اور ہر ایک کو اپنی اپنی طاقت کے مطابق آپ کی قائم کردہ راہ پر گامزن ہونا پڑتا ہے پس ہر ایک نے اپنی اپنی قوت، استعداد اور طاقت کے مطابق آپ کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑہا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اپنی زندگی میں قائم کرنا ہے۔یہ درست ہے لیکن یہ میچ نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے یا اپنی کو تا منہمی کی وجہ سے یہ سمجھے کہ میری قوت