خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 483 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 483

خطبات ناصر جلد دہم ۴۸۳ خطبہ نکاح ۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء اور میری قابلیت یا میری طاقت اور میری استعداد تو بہت تھوڑی ہے۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر بھلا کیسے عمل کر سکتا ہوں۔ایسا خیال بھی مہلک ہے اور اس عمل کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا اس کو ترک کرنا بھی تباہی اور تنزل اور ذلت کا موجب ہے۔عزت اور شرف کا موجب نہیں ہے۔اُمت مسلمہ کے ہر فرد کی عزت اور شرف اسی میں ہے کہ وہ خدائی تقدیر کے مطابق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کو اپنے سامنے رکھے اور اپنا پورا زور اس بات کے لئے خرچ کر دے کہ جس حد تک اس کے لئے ممکن ہے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں آپ کی سیرت و اخلاق میں آپ کا ہم شکل بن جائے گا لیکن جو شخص یہ کہتا ہے کہ جی میں چونکہ کمزور ہوں میرے لئے اس اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس شخص کا یہ خیال دراصل خود اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت اور تباہی کا گڑھا کھود نے کے مترادف ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ہر شعبہ زندگی کے متعلق احکام بھی دیئے اور آپ ہمارے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایک اسوۂ حسنہ بھی بنے۔انسان مختلف زمانوں میں اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مصائب سے دو چار رہے یا ان پر ترقی کی راہیں کھلتی رہیں۔خوشی اور غم جس طرح ان کے سامنے آتا رہا۔قریباً ہر انسان کی زندگی کے ہر دور کا ایک نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اپنے انتہائی نقطہ کمال پر نظر آتا ہے۔اس لحاظ سے بھی آپ کی زندگی ایک کامل اور مکمل زندگی ہے۔اگر آپ کو کبھی اختیار نہ ملتا تو آپ صاحب اختیار کے لئے نمونہ نہ بنے۔اگر کبھی آپ کو غیروں کی حکومت میں رہنا نہ پڑتا۔تو رعایا کی ذمہ داریاں نبھانے کے اعتبار سے آپ لوگوں کے لئے نمونہ نہ ٹھہر تے۔اگر آپ کا کوئی بچہ فوت نہ ہوتا تو ان لوگوں کے لئے جن کے بچے چھوٹی عمر میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے ماتحت فوت ہو جاتے ہیں آپ اسوہ نہ بنتے۔اگر آپ کی کوئی اولاد نہ ہوتی تو ایک باپ پر اپنی اولاد کی تربیت کی جو ذمہ داری ہے اس کے لئے آپ نمونہ نہ بنتے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کو دولت نہ دیتا۔تو ایک دولتمند کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے آپ کی زندگی میں کوئی نمونہ نہ ملتا۔اگر آپ پر فاقہ کشی کے حالات نہ آتے تو ایک فقر یا ایک غریب مسکین