خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 26

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶ خطبہ عیدالفطر ۲۲؍دسمبر ۱۹۶۸ء که نَزَّلَ عَلَيْكَ الكتب بِالْحَقِّ یعنی کامل حق اور کامل صداقت پر مشتمل کتاب جو انسان کے لئے مقدرتھی وہ انہی بشارتوں اور وعدوں کے مطابق اتاری گئی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء سے کئے گئے تھے اور جن کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی ہے۔تو رات اور انجیل میں تو صرف پہلوں کے لئے ہدایت کا سامان تھا لیکن وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اب اللہ تعالیٰ نے الفرقان نازل کر دیا ہے جو کامل اور مکمل ہدایت ہے۔اور جونشان ( وَآيَةً مِّنكَ ) مانگا گیا تھا وہ کامل اور مکمل طور پر اب الفرقان کی شکل میں نازل ہو گیا ہے اور جواب کفر کرے گا اور انکار کرے گا اور ناشکری کرے گا اور اس رزق سے وہ فائدہ نہیں اٹھائے گا۔جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے اٹھایا جائے۔اسے اللہ تعالیٰ پہلوں سے بڑھ کر عذاب دے گا۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جسمانی رزق سے بھی اس طرح فائدہ اٹھایا جائے کہ اس سے روحانی بہتری کے سامان پیدا ہوں اور جو روحانی غذا ہے وہ تو ہے ہی اس کام کے لئے لیکن انسان جب ناشکرا ہوجاتا ہے تو وہ جسمانی غذا کھا کر اپنے جسم کو تو موٹا اور تازہ کر لیتا ہے لیکن روح کی تروتازگی کا سامان پیدا نہیں کرتا اور جو روحانی غذا اس پر نازل ہوتی ہے اس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا اور اس سے بے اعتنائی برتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص ناشکری کرے گا میں اسے عذاب دوں گا۔پھر سورۃ مائدہ کی آیات میں ایک آیت ( وَآيَةً مِّنْكَ ) مانگی گئی تھی لیکن یہاں سورۃ الِ عمران میں فرمایا کہ میں بہت سی آیات دوں گا اور جو ان آیات کا انکار کرے گا اس کو میں سخت عذاب دوں گا۔یہ دن تمہارے لئے عید کا دن بن سکتا ہے لیکن تم پر واجب ہے کہ ہر وہ دن جو تمہارے لئے عید بنایا جائے اس کے نتیجہ میں تم میرے شکر گزار بندے بنو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے اور میری باتوں کو نہیں سنو گے تو پہلے انبیاء کی تنبیہ اور انذار کے مطابق اس کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب دیکھنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے پہلوں سے یہی کہا تھا کہ ہمارے انکار کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا جو غضب نازل ہو سکتا ہے۔اس سے زیادہ غضب اس وقت نازل ہو گا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائیں گے اور لوگ ان کا انکار کریں گے۔اس لئے تم ابھی سے فکر کرو اور اپنی نسلوں کو اس عذاب سے بچانے کے سامان پیدا کر و۔غرض