خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 25 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 25

خطبات ناصر جلد دہم ۲۵ خطبہ عیدالفطر ۲۲؍دسمبر ۱۹۶۸ء کہ جو کوئی ان میں سے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کرے گا اور اسے ماننے سے انکار کرے گا اور روحانی غذا نہیں کھائے گا۔اس کی اصلاح کے لئے ایک ایسا عذاب مقدر ہے کہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کسی اور کے لئے مقدر نہیں کیا گیا کیونکہ آپ سے پہلے آنے والوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے صرف اس حصہ کا انکار کیا تھا جو ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور گو وہ اصولی طور پر تو مجرم تھے لیکن ساری ہدایت کے وہ منکر نہیں تھے۔ان کے مقابلہ میں جو لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کامل شریعت اور مکمل ہدایت کے منکر ہوں گے انہیں پہلوں کی نسبت زیادہ عذاب ملے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے کہا تم انہیں تنبیہ کر دو کہ میں آسمان سے ان کے لئے دنیا کی نعمتوں کا بھی سامان پیدا کروں گا اور ان کی روحانی بقا اور حیات کا سامان بھی پیدا کروں گا۔لیکن یہ رزق چاہے د نیوی ہو یا روحانی ان پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے اور جو شخص ان ذمہ داریوں کو نہیں نبھا تا اور ناشکری کی راہوں کو اختیار کرتا ہے (خصوصاً اس وقت جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو جائے اور کامل ہدایت اور مکمل شریعت کا نزول ہو جائے ) اس پر خدا کی گرفت بھی پہلوں سے زیادہ ہوگی۔اس مضمون کے مطابق اور اس وعدہ کے مطابق جو سورۃ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا۔سورۃ آلِ عمران کی شروع کی آیات ( جو میں نے ابھی پڑھی ہیں ) مضمون بیان کر رہی ہیں۔سورۃ مائدہ میں وعدہ دیا گیا تھا کہ اِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ اور سورۃ الِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدائے واحد کی طرف سے جو الْحَی اور الْقَيُّوم ہے حقیقی زندگی کا وہی مالک ہے۔وہ حقیقی طور پر زندہ ہے اور حیات اور زندگی صرف اسی سے حاصل ہوسکتی ہے۔وہ دوسروں کو زندہ رکھنے والا ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور بقا اور قیام صرف اسی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ایک ایسا مائدہ نازل ہو رہا ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔اور قائم رہے گا اور قیامت تک انسان کی زندگی کے سامان پیدا کرے گا۔نَزِّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ - گویا حضرت عیسی علیہ السلام کو وعدہ دیا گیا تھا کہ اِنِّی مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ اور اب یہ اعلان کیا گیا ہے