خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 472 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 472

خطبات ناصر جلد دہم ۴۷۲ خطبہ نکاح ۲۳ را گست ۱۹۶۹ ء بھی زیادہ حاصل کرنے کا موجب بن جائے۔اسی لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر کام دعا سے شروع کرنا چاہیے۔انسانی زندگی کے ایک نئے دور کی ابتدا نکاح کے اعلان سے ہوتی ہے۔دو مختلف خاندانوں کے لڑکے لڑکی کا پیوند لگایا جاتا ہے۔جس طرح درختوں کا پیوند لگایا جاتا ہے اور اس پیوند پر اللہ تعالیٰ کا قانون چلتا ہے وہی قانون انسان کے اس قسم کے پیوند پر بھی حاوی ہوتا ہے یعنی ابتدائی تعلقات میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب دو ٹہنیوں کا آپس میں پیوند لگایا جاتا ہے تو اس کی حفاظت کے لئے لوگ رسی باندھ دیتے ہیں جب اس پیوند کے نتیجہ میں کونپل پھوٹتی ہے تو پھر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی جانور اس کو کھا نہ جائے یا ناسمجھ بچہ یا بے خیالی میں بعض دفعہ کوئی بڑا آدمی ٹکر لگا کر اس کو توڑ نہ دے اور جس وقت وہ درخت بڑا ہو جاتا ہے اور اس کا تنا مضبوط ہو جاتا ہے تو اسی درخت پر چار چار، پانچ پانچ بچے چڑھ کر اس کا پھل کھا رہے ہوتے ہیں مگر اس درخت کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔پس یہی حالت اس ازدواجی تعلق کے ابتدائی دور کی ہے۔ازدواجی رشتہ کا ابتدائی دور بھی بڑا نازک ہوتا ہے اس میں بڑی ذمہ داری خاوند کی بھی بیوی کی بھی اور عام طور پر لوگ بھول جاتے ہیں ایک بہت بڑی ذمہ واری دونوں خاندانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بہت سے رشتے اس وجہ سے نا کام ہو گئے اور ان کوٹوٹنا پڑا کہ ماں نے یا باپ نے یا ہر دو نے وہ ذمہ داری نہیں نباہی جو انہیں نباہنی چاہیے تھی۔یہ جو ایک نئے دور کی ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے اسے بھی دعاؤں کے ساتھ شروع کرنا چاہیے اور دعاؤں ہی سے اس کی پختگی کا حصول اور اس پختگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس طرح دعائیں کرتے رہنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے باہمی زندگی کا سارا زمانہ خوشحالی میں گذر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال اور اس کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں اگلی نسل بھی قرہ عین بنتی ہے اور جیسا کہ ہر مومن کی یہ خواہش ہونی چاہیے اور ہوتی ہے کہ ان کی نسل بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنے