خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 471
خطبات ناصر جلد دہم ۴۷۱ خطبہ نکاح ۲۳ اگست ۱۹۶۹ء کہ یہ کار تو اللہ تعالی کے فضل سے چلے گی پٹرول وغیرہ سے تو یہ چلنے سے رہی۔میں نے اس دعا کے پڑھنے کے ارادہ سے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ دھکا لگائیں اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی کہہ دیا کہ لاہور تک مجھ سے بات نہیں کرنی۔انہوں نے دھکا لگایا تو کار سٹارٹ ہوگئی چنانچہ میں لا ہور تک یہی دعا بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ پڑھتار ہا۔راستے میں ہمیں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔نہ ہی ہم راستے میں کہیں ٹھہرے اور نہ ہی کہیں ٹھہرنے کی ضرورت تھی۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیدھے لاہور پہنچ گئے۔گیراج بند تھا۔تالا لگا ہوا تھا۔گیراج کے سامنے کھڑی کی اور اس کا دروازہ کھلوایا تو کار سٹارٹ نہ ہو۔خیر دھکا دے کراندر کر دی۔مستری کو بلا یا۔اس نے دیکھا تو کہنے لگا میں تو اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوں کہ یہ کا رسرائے عالمگیر سے چل کر یہاں تک آئی ہے کیونکہ اس کے کاربوریٹر (Carburetter ) میں اتنی مٹی جمع ہوگئی ہوئی ہے کہ پٹرول کے لئے راستہ ہی نہیں چھوڑا۔واقعی اس کو کیا پتہ تھا کہ یہ کیسے چل کر آئی ہے۔اس وقت میں یہ مثال اس لئے دے رہا ہوں کہ اگر خود ڈرائیو کرنی ہو تب بھی انسان اسی طرح دعا کر سکتا ہے۔ڈرائیور کی ذمہ داری در حقیقت بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اسے ہر وقت یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کی وجہ سے کسی اور کو دیکھ نہ پہنچے۔حادثہ کی وجہ سے کسی کو چوٹ نہ آجائے۔ہم احمدی مسلمان تو کسی دوسرے کو چوٹ لگی ہوئی دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے۔چہ جائیکہ خود ہم ہی سے کسی کو تکلیف پہنچ جائے۔پس ڈرائیونگ کی اہم ذمہ واری کو نباہنے کے لئے یہ دعائیں بڑی ہی ضروری ہیں۔اگر میرے لئے یہ ممکن ہے تو آپ کے لئے بھی ممکن ہے۔ہر ایک کے لئے ممکن ہے چھوٹوں کو بھی اور بڑوں کو بھی ہر ایک کو دعا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ہمیں اپنا فارغ وقت بے کا رنہیں گذار دینا چاہیے۔اگر ہماری زندگی دعا سے معمور ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سارے کام بن جائیں گے۔پھر اگر ہم پر کوئی ابتلا آئے گا یا کوئی امتحان آ پڑے گا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کامیاب ہونے کی توفیق عطا کرے گا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ وہ امتحان ہماری تباہی کا موجب نہ بنے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو اور